Nida e Naseem

Date: 31/05/2026 13 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ایران پر حملے

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

ایران پر حملے , رمضان میں انسانی المیہ اور عالمی امن کا تقاضا-

28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی حملے شروع کیے، جسے اسرائیل نے “Operation Lion’s Roar” اور امریکہ نے “Operation Epic Fury” کا نام دیا۔ ان حملوں میں ایران کے متعدد شہروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ یہ جنگ اب تک جاری ہے اور خطے میں تشدد، بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی المیے میں اضافہ کر رہی ہے۔
ہم اس جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس جنگ کی ابتداء اسرائیل اور امریکہ نے کی، جس نے بین الاقوامی قوانین اور خودمختار ریاستوں کے احترام کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے انسانی اثرات نہ صرف عام شہریوں تک محدود ہیں بلکہ مقدس ماہ رمضان کے دوران مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔ یہ مہینہ صبر، رحمت اور انسانیت کے اصولوں کے لیے مخصوص ہے، اور اس وقت پر جنگ کے اقدامات بے گناہ لوگوں کی روحانی اور جذباتی حالت پر گہرا صدمہ پہنچاتے ہیں۔ ایسے اقدمات نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہیں بلکہ مذہبی اور اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :قاتل مانجھا

عالمی سطح پر ردعمل مختلف رہا ہے۔ روس نے امریکہ‑اسرائیل کے حملوں کو “غیر provoked جارحیت” قرار دے کر سخت تنقید کی اور پُرامن حل کی پیشکش کی ہے۔ یورپی ممالک جیسے فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور تشدد کے خطرات اور شہری حفاظت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف گلف عرب ریاستیں بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت نے ایران کی جوابی کارروائیوں کی مذمت کی اور اپنے دفاعی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ کینیڈا نے بھی امریکہ کے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے اقدام کی حمایت کی۔ بعض ممالک نے ثالثانہ کردار اختیار کیا، جن میں پاکستان، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں، جنہوں نے تشدد میں کمی، انسانی تحفظ اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
جہاں تک امریکہ اور اسرائیل کا موقف ہے، وہ اسے ایرانی جوہری اور بیلسٹک خطرات پر قابو پانے کے تناظر میں جائز قرار دیتے ہیں، تاہم بہت سے عالمی رہنما اور تجزیہ کار اسے ایک خطرناک اقدام کہتے ہیں جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام، اقتصادی نقصان اور انسانی بحران بڑھ سکتا ہے۔
انسانی اور اخلاقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہر ریاست کو اپنے شہریوں کی حفاظت اور دفاعی صلاحیتیں رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن جارحیت اور یک طرفہ فوجی کارروائیاں انسانیت، بین الاقوامی قانون اور امن کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ خاص طور پر رمضان کے دوران یہ حملے انسانی جذبات اور روحانی سکون کی پامالی کے مترادف ہیں، جو بے گناہ افراد اور پوری مذہبی کمیونٹی کے لیے صدمے کا باعث بنے ہیں۔
لہٰذا عالمی برادری کا تقاضا ہے کہ طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات، ثالثی اور بین الاقوامی قانون کی راہ اختیار کی جائے۔ اس تنازعے کا حل صرف جنگ نہیں، بلکہ انسانی جانوں، مذہبی جذبات اور عالمی استحکام کے تحفظ میں مضمر ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔