Nida e Naseem

Date: 25/05/2026 7 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

یہ ملک کہاں جا رہا ہے؟

خزاں کو خزاں کہنا گلشن سے غداری نہیں، مگر خزاں کو بہار کہنے پر اصرار یقیناً قوم کے ساتھ بددیانتی ہے۔ آج ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کم اور نفرت کی آواز بلند تر ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرہ رہ گئے ہیں؟

آج انسانی خون بہتا ہے، مگر نہ آنکھ نم ہوتی ہے اور نہ دل کانپتا ہے۔ تشدد، قتل اور ہجوم کی درندگی اب خبر نہیں، معمول بنتی جا رہی ہے۔ کیا یہی وہ بھارت ہے جس کے آئین میں مساوات، آزادی اور انصاف کی ضمانت دی گئی تھی؟

نوادہ: ریاست کی ناکامی کی زندہ مثال

بہار کے ضلع نوادہ میں 35 سالہ مسلم نوجوان محمد اطہر حسین کا قتل صرف ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں، بلکہ ریاستی نظام پر ایک کاری ضرب ہے۔ گاؤں گاؤں کپڑے بیچنے والے اس شخص سے نام پوچھا گیا، مذہب کی شناخت کی گئی، تذلیل کی گئی، ہاتھ پاؤں باندھے گئے، بے رحمانہ تشدد کیا گیا، انگلیاں توڑی گئیں، ناخن نوچے گئے۔ چھ دن تک وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا اور آخرکار دم توڑ گیا۔

یہ سب کس کے سامنے ہوا؟
کہاں تھی پولیس؟
کہاں تھا قانون؟
اور کہاں تھی وہ ریاست جو شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے؟

کیا معاوضہ ہی انصاف ہے؟

ہر ایسے سانحے کے بعد حکومت کا ایک ہی نسخہ سامنے آتا ہے: معاوضہ۔
چند لاکھ روپے دے کر ضمیر کی خلش ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے:
کیا پیسے سے باپ واپس آ سکتا ہے؟
کیا ماں کی اجڑی گود بھر سکتی ہے؟
کیا بچوں کا مستقبل لوٹایا جا سکتا ہے؟

معاوضہ انصاف نہیں، انصاف کا متبادل تو ہرگز نہیں۔

قانون سب کے لیے ایک سا کیوں نہیں؟

حال ہی میں ایک تشدد کے معاملے میں عدالت نے ملزم کو پھانسی اور دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ خوش آئند ہے۔ مگر پھر وہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے جس سے نظریں چرائی جاتی ہیں:
چلتی ٹرین میں بشمول تین مسلم مسافروں، چار افراد کے قتل کے مجرم چیتن سنگھ کو اب تک فیصلہ کن سزا کیوں نہیں ملی؟

کیا انصاف کی رفتار مذہب دیکھ کر بدل جاتی ہے؟
کیا مقتول کی شناخت قانون کے ترازو کو ہلا دیتی ہے؟
اگر ایسا ہے تو یہ صرف ناانصافی نہیں، بلکہ آئین کی روح سے کھلی بغاوت ہے۔

ہجوم کو کب لگام دی جائے گی؟

ہجوم کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ منصف، جلاد اور گواہ تینوں بن جائے؟
نفرت انگیز بیانیہ، افواہیں اور خاموش سرپرستی مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہی ہیں جہاں قاتل خود کو محبِ وطن اور مقتول کو مجرم سمجھنے لگتا ہے۔ یہ رجحان اگر نہ روکا گیا تو کل کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے گا۔

ریاست اور عدلیہ سے دوٹوک مطالبہ ہے ۔

اب وقت آ چکا ہے کہ:

موب لنچنگ کو واضح اور علیحدہ جرم قرار دیا جائے

فیصلوں میں تاخیر کے بجائے مثال قائم کی جائے

مذہب، ذات اور شناخت سے بالاتر ہو کر قانون کو حرکت میں لایا جائے

انصاف اگر نظر نہ آئے تو ریاست کا اخلاقی جواز کمزور پڑ جاتا ہے۔

خزاں کو خزاں کہنا گلشن سے غداری نہیں، اصل غداری یہ ہے کہ لاشوں پر خاموشی اختیار کی جائے۔
اگر آج سوال نہ اٹھایا گیا تو کل سوال اٹھانے والا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

اوپر تک سکرول کریں۔