ایڈیٹر
تہذیب کے نام پر انسانیت کا قتل.
یہ کیسی تفریح ہے جو خون مانگتی ہے؟
یہ کیسا شوق ہے جو سانسیں چھین لیتا ہے؟
اور یہ کیسا تہوار ہے جو گھروں کو ماتم کدہ بنا دیتا ہے؟
پتنگ بازی… جسے کبھی معصوم خوشی، رنگوں کی اُڑان اور بچپن کی مسکراہٹ کہا جاتا تھا، آج قاتل کھیل میں بدل چکی ہے۔ ہر سال درجنوں نہیں، سینکڑوں گھر اجڑتے ہیں۔ اخبارات کی سرخیاں چیختی ہیں: “مانجھے سے گردن کٹ گئی”، “موٹر سائیکل سوار جاں بحق”، “کم عمر بچہ ہلاک”۔ مگر ہمارے کانوں پر جیسے جوں تک نہیں رینگتی۔
چینی مانجھا… بارود سے زیادہ خطرناک، استرے سے زیادہ تیز، اور ضمیر سے زیادہ بے رحم ہو چکا ہے۔ یہ صرف دھاگہ نہیں، یہ ایک خاموش قاتل ہے جو سڑک پر چلتے معصوم انسان کو لمحوں میں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ کسی ماں کی گود اجاڑ دیتا ہے، کسی بچے کو یتیم بنا دیتا ہے، کسی بیوی کی مانگ کا سہاگ چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے: آخر کب تک؟
یہ محض حادثات نہیں، یہ اجتماعی جرم ہیں۔ انتظامیہ کی غفلت، پولیس کی رسمی کارروائیاں، غیر قانونی مانجھے کی کھلی فروخت، والدین کی لاپرواہی اور نوجوانوں کی بے احتیاطی — یہ سب مل کر اس قتلِ عام میں برابر کے شریک ہیں۔ جب ہر سال لاشیں گرتی ہیں اور ہم صرف افسوس کے دو لفظ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں تو دراصل ہم بھی اس خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حیدر آباد : اردو کی خاموش موت
یہ کہنا کہ “تہوار میں ایسا ہو جاتا ہے” – ایک سنگین اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ کوئی تہوار، کوئی خوشی، کوئی روایت اس قابل نہیں کہ اس کی قیمت انسانی جان ہو۔ ایسی خوشی جو کسی کی قبر پر کھڑی ہو، وہ خوشی نہیں، وہ وحشت ہے۔
اب وقت ہے کہ رسمی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ چینی مانجھے پر مکمل اور مؤثر پابندی، سخت سزائیں، فوری گرفتاری، پتنگ بازی کے لیے مخصوص میدان، موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی گارڈ، اسکولوں میں آگاہی مہم، اور والدین کی جواب دہی — یہ سب کاغذی نہیں بلکہ عملی اقدامات بننے چاہئیں۔ ورنہ ہر سال ہم یہی اداریے لکھتے رہیں گے اور لاشیں گنتے رہیں گے۔
اصل مسئلہ صرف مانجھے کا نہیں، ذہن کا ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ “میری خوشی کسی کی موت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے”، تب تک کوئی قانون ہمیں انسان نہیں بنا سکتا۔ تہذیب کا مطلب رنگ اڑانا نہیں، جان بچانا ہے۔ تہوار کا مطلب شور مچانا نہیں، امن پھیلانا ہے۔
آج اگر وہ گردن کسی اور کی کٹی ہے تو کل وہ آپ کے بچے کی بھی ہو سکتی ہے۔ آج اگر وہ لاش کسی اور کی ہے تو کل آپ کے گھر کی دہلیز پر بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ “کسی اور” کا نہیں، ہم سب کا ہے۔
اب بھی وقت ہے —
پتنگ اُڑائیے، مگر انسانیت کے ساتھ۔
خوشی منائیے، مگر خون کے بغیر۔
تہوار منائیے، مگر کسی کی قبر بنا کر نہیں۔
کیونکہ
جو تفریح جان لے لے، وہ تفریح نہیں — جرم ہے۔



