Nida e Naseem

Date: 25/05/2026 7 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

جامعہ عثمانیہ کی بانجھ کوکھ

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

جامعہ عثمانیہ
ہزار برس کا خواب،
اور
چند برس کے
قصائی۔
جس کی زبان
اردو تھی،
مگر
جس کی رگوں میں
اب
یہ بھی پڑھیں : وہ کون ؟  تعلیم کے کفن میں لپٹی خودی

خون نہیں
سیاہی بہتی رہی
وہ جو
تدریس کی کرسیوں پر
بیٹھے،
وہ
رحمت نہیں تھے—
وہ
قحط تھے۔
ایسا قحط
کہ
کوکھ نے
جنم دینا چھوڑ دیا،
اور
علم
عقیم ہو گیا۔
طبیب؟
سب خاموش—
تشخیص کے نام پر
ڈگریاں
تھما دیں۔
وہ
سمندر کے نام پر
تالاب تھے،
اور
دُرِّ نایاب کے بدلے
کنکر
چنتے رہے۔
تحقیق؟
صرف حوالوں کی لاش،
تنقید؟
صرف خوشامد کا ہنر۔
نہ
تخلیق نے سانس لی،
نہ
لفظوں میں
خون دوڑا۔
ہاں—
انھوں نے
جامعہ کی کوکھ
بانجھ کر دی۔
اردو کے فرعون—
جن کے ہاتھوں میں
عصا نہیں
فائلیں تھیں،
اور
جن کے معجزے
صرف
خودستائی تھے۔
جب وہ مرے
تو
کوئی شاگرد نہیں رویا
صرف
رودالیاں آئیں،
آہ و بکا بیچ کر
خاموش لوٹ گئیں
اس سے بڑی
بدبختی کیا ہوگی
کہ
تم مر جاؤ
اور
علم
سکون کا سانس لے

اوپر تک سکرول کریں۔