Nida e Naseem

Date: 09/06/2026 22 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

خوشبوئے خوں

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
اسسٹنٹ پروفیسر , شعبہء اردو
ویمنس یو نی ورسٹی تلنگانہ

نظم "خوشبوئے خوں "

صبح
اخبار کے پہلے صفحے پر
چار تصویریں تھیں
کل بھی تین
پرسوں دو
اعداد بدلتے رہے
لہجہ نہیں
کسی گلی میں
گولی کی آواز
اب چونکاتی نہیں
دروازے بند نہیں ہوتے
کھڑکیاں نہیں کانپتیں
لوگ پوچھتے ہیں
“کس بات پر؟”
اور جواب ملتے ہی
چائے کا گھونٹ لے لیتے ہیں
شہر نے
خون کو
خبر کی طرح پڑھنا سیکھ لیا تھا
بچوں کی ہنسی
اب سرخی میں بھیگتی ہے
اور جوان لاشیں
رسموں کی طرح
کندھوں پر سجتی ہیں
بوڑھے باپوں کے بازو
خاموشی میں ٹوٹ گئے
جنازے
اب حادثہ نہیں
روایت بن چکے
مائیں
لوریوں میں خوف گھولتی رہیں
سچ کو مصلحت کے پردے میں رکھتی
اور طاقت کو
بچوں کے خوابوں میں
فاتح بنا کر اتارتی رہیں
یوں
گودیں
صرف جسم نہیں
مزاج بھی جنم دیتی ہیں
انسان کے
انسان ہونے کی
ترازو بدل چکی تھی
اور اوصاف
جو کبھی نسلوں میں بہتے تھے
اب کہانیوں میں بدل گئے
آخرکار
یہ تسلیم کر لیا گیا
کہ خون کی سرخی
مہک بن چکی تھی
, خوشبوئے خوں
عطر کی جگہ لے گئی۔

اوپر تک سکرول کریں۔