Nida e Naseem

Date: 26/07/2026 10 صفر 1448 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

تعلیم سے خوف کیوں؟

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

ماہر تعلیم و سماجی جہد کار

تعلیم سے خوف کیوں؟ جب کتاب بولتی ہے تو اقتدار کانپتا ہے، قومیں بلڈوزروں سے نہیں، کتابوں سے بنتی ہیں

انقلابی شاعر عامر عثمانی کی نظم کے ساتھ طلبا کا احتجاج،

’’تم ہی تم قادر ِمطلق ہو خدا کچھ بھی نہیں‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج دہلی میں ایک طرف جنتر منتر پر ہزاروں نوجوان معروف انقلابی شاعر عامر عثمانی کی نظم ’’بغاوت ‘‘کی گونج میں اپنے مستقبل کا سوال اٹھارہے ہیں۔ حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ، افراتفری، انتشار اور بد امنی بڑھتی جارہی ہے ۔طلبا بلالحاظ مذہب و ملت اردو نظم ’’ بغاوت ‘‘کے ذریعہ اپنے مجروح جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ۔

آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے

میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے

آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف

میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے

جبرو سفاکی وطغیان کا باغی ہوں میں

تشنہء قوت انسان کا باغی ہوں میں

المیہ یہ کہ دوسری طرف محمد علی جوہر یونیورسٹی کی درجنوں عمارتوں پر بلڈوزر کی تلوار لٹک رہی ہے۔ جنتر منتر سے لے کر رام پور تک اٹھنے والی آوازیں دراصل ایک ہی سوال پوچھ رہی ہیں ،کیا اس ملک میں کتاب کی طاقت، بلڈوزر کی طاقت سے کم تر ہو چکی ہے؟سوال یہ نہیں کہ احتجاج کون کر رہا ہے، سوال یہ ہے کہ احتجاج کرنے پر نوجوان کیوں مجبور ہو رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: قانون کا وقار یا اقتدار کا انتقام؟ محمد علی جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر کیوں؟

جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون

ظلم و عدو، ان کی ٹیکسال میں ڈھالے قانون

تشنگی نفس کے جذبوں کی بجھانے کے لیے

نوع انسان کے بنائے ہوئے کالے قانون

ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے

ان سے ہر سانس میں تحریکِ بغاوت ہے مجھے

حکو متوں کا یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بلڈوزروں سے نہیں، کتابوں سے بنتی ہیں،آنسو گیس سے نہیں، استاد کے قلم سے پروان چڑھتی ہیں۔ جو حکومتیں کتاب سے خوف کھانے لگیں، وہ درحقیقت باشعور قوم سے خوف زدہ ہوتی ہیں کیونکہ تعلیم یافتہ قوم سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے، احتساب چاہتی ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہی سوال ہر حکومت کے سامنے آج بھی کھڑا ہے، آخر تعلیم سے خوف کیوں؟

تم ہنسو گے کہ یہ کمزور سی اواز ہے کیا

جھنجھنا یا ہوا تھرایا ہوا ساز ہے کیا

جن اسیروں کے لیے وقف ہیں سونے کی قفس

ان میں موجود ابھی خواہش پرواز ہے کیا

آہ ¡ تم فطرت انسان کے ہمراز نہیں

میری اواز, یہ تنہا میری اواز نہیں

اگر ملک کا امتحانی نظام بار بار تنازعات میں گھرا رہے، اگر پیپر لیک لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت کو داؤ پر لگا دے، اگر جامعات کو عدم تحفظ کا احساس ہو، تو نوجوان آخر کہاں جائیں؟ وہ عدالت جائیں، سڑک پر آئیں یا خاموش رہ کر اپنے خواب دفن کر دیں؟دنیا کی ہر باشعور حکومت جانتی ہے کہ تعلیم یافتہ قوم صرف روزگار نہیں مانگتی، بلکہ جواب بھی مانگتی ہے، وہ آئین پڑھتی ہے، قانون کو سمجھتی ہے، احتساب کا مطالبہ کرتی ہے اور حکمرانوں سے سوال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار نہیں، بلکہ اس کے اسکول، جامعات اور اساتذہ ہوتے ہیں۔

انگنت روحوں کی فریاد ہے شامل اس میں

سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں بہت دل اس میں

تہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن

نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اس میں

اس کی یہ یلغار مری ذات پہ موقوف نہیں

اس کی گردش مرے دن رات پہ موقوف نہیں

حکومتوں کے مؤقف الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے کیا ہندوستان میں تعلیم واقعی اولین ترجیح ہے؟آج جنتر منتر احتجاج او ر مجاہد آزادی اور تعلیم کے علمبردار مولانا محمد علی جوہر کے نام سے موسوم ’’ محمد علی جوہر یو نی ورسٹی پر لٹکتی تلوار ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کا ایک تشویش ناک نقشہ بن جاتی ہے ۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں اگر قانونی بے ضابطگیاں موجود ہیں تو ان کا فیصلہ قانون اور عدالت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ لیکن ایک ایسی درسگاہ، جہاں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہوں، اس کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلہ غیر معمولی احتیاط، شفافیت اور تعلیمی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ قومیں یونیورسٹیاں گرا کر نہیں، بلکہ نئی یونیورسٹیاں بنا کر ترقی کرتی ہیں۔احتجاجیوں پر لاٹھی چارج ، گرفتاریوں سے طلبا ٹوٹتے نہیں ، بکھرتے نہیں بلکہ یو ں مضحکہ اڑاتے ہیں کہ

ہنس تو سکتے ہو گرفتار تو کر سکتے ہو

خوار و ،رسوا سر بازار تو کر سکتے ہو

اپنی قہار خدائی کی نمائش کے لیے

مجھ کو نذرِ،رسن و دار تو کر سکتے ہو

تم ہی تم قادر ِمطلق ہو خدا کچھ بھی نہیں

جسم انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں

حکومتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں کس عنوان سے یاد کی جائیں گی،ایسی حکومتیں جنہوں نے جامعات کو مضبوط کیا، یا ایسی حکومتیں جن کے دور میں بلڈوزر، آنسو گیس اور لاٹھیاں ت،علیم پر جہالت کو فوقیت، روشنی پر اندھیرے کو مسلط کریں گی ؟ کیوں کہ

آہ یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر ’’

آدمی نادر وہ چنگیز تو بن سکتا ہے

ظاہری قوت وہ سطوت کی فراوانی سے

لینین و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے

سخت دشوار ہے انسان کا مکمل ہونا

حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا‘‘

حکومتیں اگر جمہوریت ، عدل وانصاف اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے واقعی سنجیدہ ہے تو پھر اب وقت آ چکا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات بدلیں۔ تعلیمی اصلاحات کو سیاسی مفادات پر ترجیح دیں، نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کریں، امتحانی نظام کو شفاف بنائیں اور جامعات کو تصادم کا نہیں بلکہ  تعمیرِ قوم کا مرکز بنائیں۔

اوپر تک سکرول کریں۔