Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

رمضان اور جگمگاتے بازار

رمضان آیا نہیں کہ بازار جاگ اٹھتے ہیں۔
گلیاں روشن، دکانیں آباد، راتیں بیدار – مگر دل سوئے ہوئے-
یہ وہ مہینہ ہے جو آسمان سے رحمتیں لے کر اترتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بندہ اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے۔ مگر ہم نے اس قرب کو خریداری کی فہرستوں میں گم کر دیا ہے۔ تراویح کے اوقات میں بازاروں کا ہجوم اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: عرس غریب نواز۔ عقیدت کا امتحان

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ رمضان میں چھوٹا تاجر بھی سال بھر کی کمائی کر لیتا ہے۔ یقیناً یہ معاشی پہلو اہم ہے۔ اسلام تجارت کے خلاف نہیں۔ مگر کیا ساری خریداری اسی مہینے میں ضروری ہے؟ کیا رجب اور شعبان ہمیں تیاری کا موقع نہیں دیتے؟
اصل مسئلہ خریداری نہیں، ترجیح کا ہے۔
مسئلہ ضرورت نہیں، اسراف کا ہے۔
مسئلہ تجارت نہیں، ترجیحات کی تبدیلی کا ہے۔
ہم نے رمضان کو فیشن، نمائش اور مقابلہ آرائی کا مہینہ بنا دیا ہے۔ نئے ملبوسات، نت نئے پکوان، اور سوشل میڈیا کی چمک دمک — مگر قرآن کی تلاوت کم، آنسو کم، سجدے کم۔
رمضان ہمیں بھوک کا احساس دلا کر محتاجوں کے قریب لاتا ہے، مگر ہم اسی مہینے میں سب سے زیادہ خرچ کر کے اپنے اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھا دیتے ہیں۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
کیا ہم بازاروں کی روشنی میں اپنی روح کی تاریکی نہیں دیکھ پا رہے؟
رمضان قربِ خدا کا مہینہ ہے، حصولِ خدا کا مہینہ ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو بھی دنیا کی دوڑ میں کھو دیا تو پھر کون سا وقت باقی بچے گا؟
آئیے، فیصلہ کریں:
بازار آباد ہوں، مگر دل ویران نہ ہوں۔
تجارت ہو، مگر عبادت پر غالب نہ آئے۔
روشنی ہو، مگر روح کی روشنی بجھنے نہ پائے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ساری رات جاگیں، مگر محروم رہ جائیں۔

اوپر تک سکرول کریں۔