Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

خامنہ ای کی شہادت

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

امریکہ-اسرائیل کی جارحیت عالمِ انسانیت کے لیے خطرہ

عالمی سیاست کا نفسیاتی محاذ

طاقت، بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل

مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر غیر یقینی، افواہوں اور عسکری تناؤ سے بوجھل ہے۔

ایک خبر گردش کرتی ہے – قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری خبر اسے رد کرتی ہے۔

یہ صرف گولیوں کی جنگ نہیں، یہ بیانیے کی جنگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملے

کیا واقعی قیادت کو مٹانا آسان ہے؟

ایران کوئی کمزور یا غیر منظم ریاست نہیں۔

یہ ایک منظم عسکری، انٹیلی جنس اور اسٹریٹیجک ڈھانچے کا حامل ملک ہے۔ اس کے پاس:

کثیر سطحی دفاعی نظام

میزائل پروگرام

خطے میں اتحادی نیٹ ورک

اور نظریاتی وابستگی رکھنے والی عوامی بنیاد

موجود ہے۔

کسی ایک شخصیت کو نشانہ بنانا اور ایک ریاستی نظریے کو مٹا دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ قیادتیں ختم ہوتی ہیں  مگر نظریات اکثر مضبوط ہو جاتے ہیں۔

کیا امریکہ مسلم ممالک کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا؟

امریکہ  کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس کے اسٹریٹیجک مفادات کے گرد گھومتی ہے — چاہے وہ توانائی کے ذخائر ہوں، علاقائی توازن ہو، یا عالمی طاقت کی برتری۔

یہ کہنا کہ وہ “کسی بھی مسلم ملک کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا” ایک جذباتی عمومی جملہ ہو سکتا ہے، مگر یہ ضرور سچ ہے کہ:

کوئی بھی سوپر پاور کسی متبادل طاقت کے ابھرنے کو چیلنج سمجھتی ہے۔

یہ اصول صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں  یہی منطق وہ

چین اورروس کے معاملے میں بھی اختیار کرتا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی نفسیات

اقوام متحدہ

عالمی سطح پر قانون اور اخلاقیات کا نمائندہ ادارہ ہے، مگر جب بڑی طاقتیں خود فریق ہوں تو قراردادیں اکثر علامتی رہ جاتی ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں ایک نفسیاتی عنصر ہمیشہ موجود رہتا ہے:

ہر طاقت اپنی قیادت کو “ہیرو” اور مخالف کو “خطرہ” بنا کر پیش کرتی ہے۔

یہی بیانیہ سازی جنگ کو اخلاقی جواز دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

صدام حسین کی مثال

کی گرفتاری اور پھانسی بھی ایک عالمی نفسیاتی واقعہ تھا۔

کچھ حلقوں نے اسے انصاف کہا،

کچھ نے اسے طاقت کی سیاست قرار دیا۔

مگر اس کے بعد خطہ استحکام کی طرف نہیں گیا  بلکہ طویل انتشار میں داخل ہوا۔

یہ تاریخ کا سبق ہے:

قیادت کا خاتمہ ہمیشہ مسئلے کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

عرب دنیا کا محتاط رویہ

سعودی عربیہ

متحدہ عر ب امارات

اقتصادی معاہدے، دفاعی شراکتیں، داخلی ترجیحات — یہ سب عوامل انہیں محتاط رکھتے ہیں۔

ریاستی مفاد اور عوامی جذبات کے درمیان یہی فاصلہ اکثر "بے حسی” سمجھا جاتا ہے۔آج جب مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر غیر یقینی، افواہوں اور عسکری تناؤ سے بوجھل ہے۔

چین اور روس کے دعوے

چین اور روس دونوں ممالک اکثر خود کو یک قطبی عالمی نظام کے مخالف کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے عموماً امریکی مداخلت پسندی پر تنقید کی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی بات کی ہے۔

لیکن عملی سطح پر ان کا کردار زیادہ تر سفارتی بیانات، سلامتی کونسل کے اجلاس، اور اقتصادی تعاون تک محدود رہتا ہے۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے:

کیا یہ طاقتیں واقعی توازن قائم کرنا چاہتی ہیں یا صرف جغرافیائی مفادات کی سیاست کر رہی ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا طاقت ہی قانون ہے، یا قانون طاقت سے بالاتر کوئی اخلاقی قدر بھی رکھتا ہے؟

اگر کسی ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے دار کو بیرونی فوجی کارروائی میں نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ صرف ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ عالمی قانونی و اخلاقی نظام کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔

  1. بین الاقوامی قانون کی روشنی میں

اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) واضح طور پر کسی خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے، سوائے دو صورتوں کے:

سلامتی کونسل کی اجازت

واضح دفاعی ضرورت

سوال یہ ہے کہ کیا پیشگی حملہ واقعی دفاع کے زمرے میں آتا ہے؟

بین الاقوامی قانون کے ماہرین اس پر منقسم ہیں۔ اگر ہر طاقتور ملک اپنی تشریح کے مطابق دفاع کا دعویٰ کرے تو عالمی نظام انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔

  1. جنگی اخلاقیات (Just War Theory)

مغربی فلسفہ میں جس نظریے کو Just War Theory کہا جاتا ہے، وہ تین بنیادی اصولوں پر زور دیتا ہے:

عادلانہ سبب (Just Cause)

آخری چارہ (Last Resort)

تناسب (Proportionality)

اگر سیاسی تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستے موجود ہوں اور پھر بھی عسکری اقدام کیا جائے تو یہ "آخری چارہ” کے اصول سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔

  1. مسلم سیاسی فکر میں جنگ و امن

اسلامی سیاسی فکر میں جنگ کو اصل نہیں بلکہ استثنا سمجھا گیا ہے۔

قرآن میں قتال کی اجازت ظلم کے ردعمل میں دی گئی، جارحیت کے لیے نہیں۔

خلافتِ راشدہ کے ادوار میں بھی جنگی اصول طے تھے:

غیر جنگجو افراد کو نقصان نہ پہنچانا

عبادت گاہوں کا تحفظ

عہد و پیمان کی پاسداری

یہ اصول جدید بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

مسلح مزاحمت ۔ حزب اللہ اور حماس

دنیا ایسے وقت میں کھڑی ہے جب مزاحمتی قوتیں اپنے وجود، مقاصد اور ارادوں کے بارے میں دوبارہ سوچ رہی ہیں۔ حزب اللہ، حماس جیسی جماعتیں محض عسکری قوتیں نہیں؛ بلکہ ان کے پیچھے سیاسی، سماجی اور نظریاتی اہداف ہیں، جو آج کے تنازع میں دوبارہ موضوع بحث بن سکتے ہیں ۔ خاص طور پر اگر عرب عوام میں یکجہتی اور اتحاد کی لہر پیدا ہو۔

یہاں اہم سوال یہ ہے کہ آیا مزاحمتی قوتیں صرف ردعمل میں وجود پائے گی، یا وہ ایک منظم، انسانی اور عادلانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گی یہی وہ چیلنج ہے جس کا سامنا آج امتِ اسلامی کو ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔