داخلی کمزوریاں اور قومی سلامتی کا امتحان
ایران میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات محض بیرونی جارحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک گہری داخلی چیلنج کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب دشمن کسی ملک کے حساس ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انٹیلیجنس اور داخلی سیکیورٹی میں خلا موجود ہے، جسے فوری طور پر پر کرنا ناگزیر ہے۔
ہر ریاست کی اصل طاقت صرف اس کی فوجی قوت نہیں بلکہ اس کا مضبوط داخلی نظام، وفادار افرادی قوت اور باخبر سیکیورٹی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ اگر اندرونی سطح پر ملک دشمن عناصر، خفیہ روابط یا معلومات کے اخراج جیسے مسائل موجود ہوں تو یہ کسی بھی بیرونی حملے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایران کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود داخلی سازشی عناصر اور کمزوریوں کی نشاندہی کرے اور انہیں ختم کرے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں باہر سے کم اور اندر سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں



