فرزند اردو
اردو کے سرکاری ادارے: خاموش موت کا منظرنامہ
اردو زبان کے نام پر قائم سرکاری ادارے آج غیر فعال ہی نہیں بلکہ عملاً اپاہج ہو چکے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اعلیٰ حکام اس صورتِ حال پر نہ صرف بے توجہی بلکہ دانستہ لاتعلقی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب کوئی حساس دل، کوئی باشعور قلم اس زبوں حالی کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہے تو جواب میں چشم پوشی، خاموشی اور سرد مہری کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
درخواستیں، یادداشتیں اور فریادیں فائلوں کے برف دان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ بے حسی؟ کب تک اردو کو محض جذباتی نعروں اور تقاریب کی زینت بنایا جاتا رہے گا؟
ریاست کے وہ اہم اور قدیم سرکاری ادارے جو کبھی اردو زبان کی بنیاد سمجھے جاتے تھے، آج وہاں ایک بھی مستقل استاد موجود نہیں۔ طلبہ غیر حاضر ہیں، تدریس برائے نام ہو چکی ہے، اور اگر کبھی کوئی اردو ٹیچر دکھائی بھی دے جائے تو وہ محض رسمی حاضری کی جھلک بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جامعہ عثمانیہ کا شعبۂ اردو
اردو شعبہ جات کی اس زبوں حالی کی ایک اہم وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ماضی میں مؤثر تعلیمی تربیت، علمی رہنمائی اور فعال تدریسی ٹیمیں تشکیل دینے کی جو مضبوط روایت قائم تھی، وہ بتدریج ختم ہوتی چلی گئی۔ وہ اساتذہ جو علمی معیار، تحقیقی دیانت اور تدریسی سختی کے لیے جانے جاتے تھے، ہمیشہ اہلیت کو معیار بناتے تھے۔ نااہل افراد کو نہ تحقیقی درجات دیے جاتے تھے اور نہ ہی تدریسی ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں۔
مگر وقت کے ساتھ یہ روایت کمزور پڑتی گئی۔ معیار کی جگہ مصلحت نے لے لی اور اہلیت کی جگہ خوشامد نے۔ تدریسی مناصب کے لیے علمی قابلیت کے بجائے ذاتی قربت، چاپلوسی اور غیر تعلیمی وابستگیاں اہم سمجھی جانے لگیں۔ تقررات کے عمل پر شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے، جس کے نتیجے میں اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی چلی گئی۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایک مرحلے پر تدریسی اہلیت ثانوی حیثیت اختیار کرتی گئی، اور ایسے افراد بھی اردو کے تدریسی مناصب تک پہنچنے لگے جن کی لسانی اور تعلیمی تیاری خود سوالیہ نشان بن گئی۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف تعلیمی معیار کو نقصان پہنچایا بلکہ اردو شعبہ جات کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔
یہ تضاد بھی توجہ طلب ہے کہ آج نجی شعبے اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں پروفیشنل کورسز کے حامل نوجوان کم از کم بارہ بارہ گھنٹے روزانہ کام کر کے پچاس ہزار ماہانہ جیسی تنخواہ حاصل کرتے ہیں، جب کہ دوسری جانب بعض سرکاری اردو اداروں میں چند گھنٹوں کی رسمی موجودگی کے عوض نسبتاً زیادہ مراعات اور تنخواہیں حاصل کی جا رہی ہیں، مگر نتیجہ یہ ہے کہ ادارے عملاً مفلوج اور تعلیمی نظام مردہ ہو چکا ہے۔
اس سے زیادہ تشویش ناک صورتِ حال یہ ہے کہ جب کوئی فرد اس زوال پر سوال اٹھاتا ہے یا اصلاح کی بات کرتا ہے تو بعض اوقات اسے یہی کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ
“تنخواہ تو وقت پر مل رہی ہے، پھر شعبے کو فعال بنانے کی کیا ضرورت ہے؟”
یہ سوچ کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ اس پورے نظام کی عکاس ہے جو مقصدِ تعلیم کے بجائے سہولت اور مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اردو کے محافظ نہیں بلکہ قاتل ہی محافظ کے منصب پر فائز ہیں۔ امتحانات میں غیر سنجیدگی، تعلیمی معیار سے چشم پوشی، اور ڈگریوں کی بے وقعت تقسیم-یہ سب اسی زوال یافتہ نظام کی علامتیں ہیں-
آخر کب تک یہ تماشہ چلے گا؟
اب جا کر یہ نکتہ پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ میں آتا ہے کہ حکومتیں اور اعلیٰ حکام اس تمام صورتِ حال پر تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ سرکاری اردو ادارے اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔ انہیں بند کرنے کے لیے کسی باضابطہ اعلان یا فیصلے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انتظامی غفلت، عدم احتساب اور اندرونی زوال ہی ان کے خاتمے کے لیے کافی ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ محض اردو کا سوال نہیں، یہ تعلیمی دیانت، تہذیبی شعور اور ریاستی ذمہ داری کا سوال ہے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اصلاح نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں اردو کے سرکاری اداروں کو محض تاریخ کی کتابوں میں ایک باب کے طور پر پڑھیں گی-ایک ایسا باب جو بے حسی، بدعنوانی اور خاموش جرم کی داستان ہوگا۔



