Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ایران کے لیے ابھی تک مدد کیوں نہیں آئی ؟

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

ایران کے لیے ابھی تک مدد کیوں نہیں آئی ؟

یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا دفاعی نظام مضبوط کرے اور طاقتور ترین بن کر ابھرے ۔
ایران کی عالمی پوزیشن: دوست ممالک، سفارتی و تجارتی تعلقات اور مستقبل کی سمت

موجودہ عالمی تناظر میں ایران ایک اہم مگر پیچیدہ سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ایران کے کچھ قریبی شراکت دار موجود ہیں تو پھر کھلی فوجی تائید کیوں نظر نہیں آتی؟ اس کا جواب عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملی، معاشی مفادات اور علاقائی توازن میں پوشیدہ ہے۔
1۔ ایران کی تائید میں کھلی فوجی حمایت کیوں سامنے نہیں آئی؟
بین الاقوامی سیاست اصولوں سے زیادہ مفادات پر چلتی ہے۔
چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:
بڑی طاقتیں براہِ راست امریکہ سے ٹکر نہیں چاہتیں۔
عالمی معیشت امریکی مالیاتی نظام سے جڑی ہوئی ہے؛ پابندیوں کا خوف موجود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ماؤں کی مشعل

ایران کے پاس NATO جیسا کوئی دفاعی اتحاد نہیں جس کے تحت رکن ممالک جنگ کی صورت میں لازمی شامل ہوں۔
خطے کے کئی ممالک کشیدگی کے بجائے توازن کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔
یوں سفارتی بیانات تو آتے ہیں، مگر عسکری شمولیت سے گریز کیا جاتا ہے۔
2۔ ایران کے اہم دوست ممالک اور تعلقات
رشیا:
ایران اور روس کے تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔
شام کے معاملے میں مشترکہ تعاون
دفاعی اور توانائی شعبے میں اشتراک
مغربی پابندیوں کے خلاف قریبی سفارتی ہم آہنگی
چین :
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
طویل مدتی اقتصادی تعاون
ایرانی تیل کی بڑی خریداری
انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے منصوبے
چین عموماً ایران کے خلاف سخت عالمی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے، مگر براہِ راست عسکری مداخلت سے اجتناب کرتا ہے۔
عراق :
سرحدی، مذہبی اور ثقافتی روابط
توانائی تجارت (بجلی اور گیس)
وسیع سرحدی تجارتی سرگرمیاں
سیریا :
طویل المدتی سیاسی و فوجی تعاون
علاقائی حکمتِ عملی میں اہم شراکت
ترکی :
مکمل اتحادی نہیں مگر مضبوط تجارتی روابط
توانائی اور سرحدی تجارت
قطر :
مشترکہ گیس فیلڈ
متوازن سفارتی روابط
وینیزویلا:
پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک کے طور پر تعاون
تیل اور توانائی شعبے میں اشتراک
ہندوستان کا ایران سے تعلق
نوعیتِ تعلق
تزویراتی یعنی*Strategic* مگر متوازن
مکمل اتحادی نہیں، بلکہ مفادات پر مبنی شراکت
سفارتی پہلو
بھارت ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان توازن رکھتا ہے
خطے میں استحکام کی حمایت کرتا ہے
تجارتی و معاشی تعلقات
ایرانی تیل کی ماضی میں بڑی خریداری (پابندیوں کے باعث کمی)
چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ (افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے اہم)
محدود مگر جاری تجارتی روابط
: بھارت ایران کا قریبی دوست نہیں بلکہ اسٹریٹجک مفادات کا شراکت دار ہے، جو کھلی عسکری حمایت سے گریز کرتا ہے۔Hezbollah (حزب اللہ)
حیثیت
یہ کوئی ریاست نہیں بلکہ لبنان کی ایک مسلح و سیاسی تنظیم ہے
ایران کے علاقائی نیٹ ورک کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے
تعلق کی نوعیت
نظریاتی اور اسٹریٹجک وابستگی
ایران اسے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں دیکھتا ہے
اہم نکتہ
چونکہ حزب اللہ ایک ریاست نہیں، اس لیے اسے ایران کے “ملکی دوستوں” کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا، بلکہ علاقائی اتحادی نیٹ ورک میں شمار کیا جاتا ہے۔

4۔ آگے کیا امید کی جا سکتی ہے؟
مستقبل کے امکانات چند صورتوں میں سامنے آ سکتے ہیں:
سفارتی مذاکرات کی بحالی
علاقائی کشیدگی میں محدود مگر مسلسل تناؤ
معاشی تعاون میں اضافہ، خصوصاً چین اور روس کے ساتھ
براہِ راست عالمی جنگ کا امکان کم، کیونکہ بڑی طاقتیں تصادم سے گریز کرتی ہیں
زیادہ امکان یہ ہے کہ حالات مکمل جنگ میں تبدیل ہونے کے بجائے سفارتی دباؤ، معاشی پابندیوں اور محدود جھڑپوں تک محدود رہیں۔

ایران تنہا نہیں، مگر اس کے پاس ایسا فوجی اتحاد بھی نہیں جو فوری عسکری مداخلت کرے۔ اس کے تعلقات زیادہ تر اسٹریٹجک اور معاشی نوعیت کے ہیں۔ عالمی طاقتیں اپنے مفادات، معاشی وابستگی اور بڑی جنگ کے خدشے کے باعث کھلی مداخلت سے گریز کرتی ہیں۔
موجودہ منظرنامہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں طاقت کا توازن سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور محدود اسٹریٹجک دباؤ کے ذریعے ہی برقرار رکھا جائے گا، نہ کہ وسیع عالمی جنگ کے ذریعے۔

اوپر تک سکرول کریں۔