Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

اسٹیج کے دلہے: یہ نظم عالی جناب عزت مآب پروفیسر ایس اے شکور ۔ دائرت المعارف کی نذر ہے

یہ نظم
عالی جناب عزت مآب پروفیسر ایس اے شکور ۔ دائرت المعارف کی نذر ہے

"اسٹیج کے دلہے”

یہ میرا شہر ہے
جہاں اردو
پیدا بھی ہوئی،
پروان بھی چڑھی—
اور

یہ بھی پڑھیں : آزاد نظم: چارج شیٹ

ہر دور میں
سسک سسک کر
زندہ درگور ہوتی رہی۔
اس لیے کہ
اردو کے ہر ادارے میں
ایک کرسی پر
ہمیشہ
وہی بیٹھا ہے
جو اردو کی لاش پر
اپنی روزی سینکتا ہے۔
وہ قاتل ہے—
مسکراہٹ اوڑھے
زہریلا سانپ،
جو لفظوں کے جنگل میں
بے خوف
خاموش ڈس لیتا ہے۔
اور لوگ؟
لوگ بے خوف ہیں—
نہ شرمندہ،
نہ مضطرب،
انہی قاتلوں کو
اسٹیج کا دلہا بنا کر
تالیاں بجاتے ہیں۔
ضمیر کی لاشوں پر
کھڑے ہو کر
یہ سب
اردو کے ملبے میں
تقریبات سجاتے ہیں،
ایوارڈ بانٹتے ہیں،
اور
قتل کو
ثقافت کا نام دیتے ہیں۔
یہ شہر نہیں—
ایک اسٹیج ہے
جہاں
اردو روز مرتی ہے
اور
قاتل
دلہا بن کر
نکاحِ زبان پڑھواتا ہے،
اور
واہ واہ کے شور میں
قتل
جائز ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔