Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

حیدرآباد میں موت کا رقص

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

خزاں کو خزاں کہنا گلشن سے غداری نہیں

ہندوستان کا شہرِ حیدرآباد آج تہذیب، رواداری اور گنگا جمنی ثقافت کے بجائے قتل، خون اور نوجوان لاشوں کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ (11.3 ملین) آبادی پر مشتمل اس شہر میں، جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے، روزانہ کم از کم دو قتل کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سماجی انہدام ہے۔

اخبارات ہوں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم—ہر طرف قتل کی خبریں ہیں، اور سب سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ ان وارداتوں میں قاتل بھی مسلمان اور مقتول بھی مسلمان۔ گویا ہم خود اپنے وجود کو کاٹ رہے ہیں۔

نوجوان: ہاتھوں میں ہتھیار، ذہن میں اندھیرا

تحقیق واضح کرتی ہے کہ قتل کی ان وارداتوں میں 17 سے 25 سال کے نوجوانوں کی اکثریت شامل ہے، جبکہ 30 سے 45 سال کے مرد حضرات پس پردہ یا براہِ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جو قوم کی تعمیر کے لیے ہوتی ہے، مگر ہم نے اسے جرم کی نذر کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یہ یونان و مصر نہیں،ہندوستان ہے

زر، زمین اور زن کے ساتھ ساتھ
منشیات، ترکِ تعلیم، ناقص تربیت اور خاندانی انتشار نے قتل کو ایک معمول بنا دیا ہے۔

یہ حقیقت جھنجھوڑ دینے والی ہے کہ کم عمر نوجوانوں کو ذاتی دشمنیوں اور خاندانی تنازعات نمٹانے کے لیے کرائے کے قاتل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور وہ صرف 500، 1000 یا 2000 سے 5000 روپے کے عوض انسانی جان لینے پر تیار ہیں۔ یہ صرف غربت نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

منشیات: نسل کشی کا خاموش منصوبہ

تعلیمی ادارے، جو کردار سازی کے مراکز ہونے چاہییں تھے، آج منشیات کی رسائی کے خاموش دروازے بنتے جا رہے ہیں۔ اسکول کے طلبہ ڈرگس کے عادی ہو رہے ہیں۔ دولت مند طبقہ اپنے بچوں کے جرائم کو دولت میں چھپا لیتا ہے، مگر متوسط اور غریب طبقے کے نوجوان اسی لت کے سبب برباد ہو جاتے ہیں۔

نشے کے لیے پیسے نہ ملیں تو جھگڑے، قرض، لوٹ مار اور پھر قتل—یہ ایک مکمل جرائم کا سلسلہ ہے۔

خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ

ایک تلخ اور ناقابلِ انکار حقیقت یہ بھی ہے کہ گھر کا مکمل نظام عورت کے ہاتھ میں آنے سے بھی تباہی بڑھ رہی ہے۔
باپ، شوہر اور بھائی معاش کی تلاش میں بیرونِ ملک ہیں، گھروں میں نظم، توازن اور مردانہ سرپرستی کا فقدان ہے۔ عورت کا احترام اپنی جگہ، مگر جب خاندانی نظام یک طرفہ ہو جائے تو اس کے نتائج پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔

مشترکہ خاندان اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ بچے دادا، دادی، تایا، چچا کی نگرانی، تنبیہ اور رہنمائی سے محروم ہیں۔ نہ روکنے والا ہے نہ سمجھانے والا—اور یہی خلا جرائم پیشہ عناصر پُر کر دیتے ہیں۔

کم عمری کی گمراہی اور ازدواجی تباہی

اخلاقی اور جسمانی گمراہی نوجوانوں کو خوشحال ازدواجی زندگی کے قابل نہیں چھوڑ رہی۔ مرد اپنی ذمہ داریاں کھو رہے ہیں، گھریلو نظام بکھر رہا ہے، اور بعض حالات میں زن بھی قتل و غارتگری کی وجہ بن رہی ہے—جو ہمارے سماجی زوال کی خطرناک علامت ہے۔

سدِّباب: اگر واقعی نیت ہو

یہ وقت رسمی بیانات اور وقتی سرگرمیوں کا نہیں، بلکہ سخت فیصلوں اور مسلسل عمل کا ہے۔

مذہبی و اخلاقی تربیت

قرآن مجید محض روانی سے نہیں بلکہ ترجمے اور مفہوم کے ساتھ پڑھایا جائے۔
احادیث، سیرت اور ایمان افروز واقعات کے ذریعے بچوں کی ذہن سازی کی جائے۔
مساجد میں صباحیہ تعلیمی نظام قائم ہو اور دینی اساتذہ کو باوقار اور مناسب معاوضہ دیا جائے۔

اخلاقیات لازمی مضمون

اخلاقیات کو مرکزی، ریاستی اور خانگی تعلیمی نصاب میں لازمی شامل کیا جائے۔
ہمیں ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ضمیر یافتہ انسان تیار کرنے ہوں گے۔

تعلیمی اداروں میں عملی شعور بیداری

تعلیمی اداروں میں ڈرگس کے خلاف شعور بیداری کے لیے عملی مشق کروائی جائے۔
لیکچر نہیں، بلکہ مستقل نگرانی، کونسلنگ اور والدین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

منشیات کے خلاف حقیقی مہم

منظم، موثر اور مسلسل شعور بیداری مہیم چلائی جائے۔
ہم ایک آدھ جلسہ، ریلی یا پوسٹر لگا کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
مسلسل پانی سے پتھر بھی ریزہ ہو جاتا ہے۔

قانون کی بے حسی ختم کی جائے

قانون کا رویہ اب ناقابلِ قبول ہے۔ ڈرگس مافیا کے خلاف بلاامتیاز، بے رحم اور مستقل کارروائی ناگزیر ہے۔

یہ اداریہ کسی ایک فرد یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔