آج ایک مسلم خاتون کی عزتِ نفس پر ہونے والے حملے کے خلاف پورا ملک متحد نظر آتا ہے۔ یہی میرے ہندوستان کا طرۂ امتیاز ہے کہ یہاں عورت کی عزت مذہب، ذات، دولت یا طبقے کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتی۔ یہاں اصول ایک ہے، قانون ایک ہے اور عورت کی حرمت سب کے لیے برابر ہے۔
ڈاکٹر نصرت جہاں کے ساتھ پیش آئے واقعے پر ملک گیر احتجاج دراصل اسی مشترکہ شعور کا مظہر ہے۔ یہی اس سرزمین کی خوبصورتی اور عظمت ہے کہ بے شمار قومیں، زبانیں اور مذاہب ہونے کے باوجود ہم ایک قوم ہیں۔ یہ نہ بازارِ مصر ہے اور نہ قانونِ یونان، جہاں تاریخ گواہ ہے کہ عورت کو سب سے زیادہ ذلیل کیا گیا۔ ہندوستان کی روح ایسی بے حرمتی کو قبول نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: الفاظ واپس لینا کافی نہیں
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا بہن بیٹیوں کے احترام کے باب میں رویہ کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں مگر یا تو نظر انداز کر دیے گئے یا دانستہ خاموشی اختیار کر لی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کس قدر عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں۔
ایک ویڈیو میں ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں پھولوں کا ہار پہناتے وقت واضح طور پر ہچکچاہٹ اور خوف کا شکار دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے باوجود زبردستی ہار پہنایا جاتا ہے اور جسمانی قربت کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ خاتون کی زبان خاموش ہے مگر اس کی آنکھیں خوف کی گواہی دے رہی ہیں۔ دوسری ویڈیو میں عوامی مقام پر خواتین کو چھونے اور نچوانے جیسے مناظر نہ صرف حیران کن بلکہ انتہائی شرمناک ہیں۔ ان لمحات میں عورت کی بے بسی اور سماجی جبر پوری شدت سے نمایاں ہوتا ہے۔
حال ہی میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون کے ساتھ اسی نوعیت کی حرکت کا اعادہ کیا گیا، جب آیوش اور آیوروید امیدواروں کو تقرر نامے دیے جا رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کا بہار چھوڑ کر اپنے شہر کلکتہ میں پناہ لینا اور تذلیل کے ساتھ دی گئی روزی قبول کرنے سے انکار کرنا، اس زخم کی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری تقاریب میں شرکت کے لیے کوئی ضابطے اور حدود ہیں تو ان سے پہلے ہی آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ کم از کم سرِ بازار عورت کی عزت پامال ہونے سے تو بچایا جا سکتا تھا۔
ابھی ایک زخم بھرا بھی نہیں تھا کہ دوسرا زخم اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کے انتہائی شرمناک اور غیر ذمہ دارانہ بیان کی صورت میں سامنے آ گیا۔ یہ بیان محض ایک فرد کی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو ہر عورت کے لیے عدم تحفظ کی علامت بن سکتا ہے۔
اقتدار میں ہوں یا عوامی منصب پر فائز افراد سب کے لیے لازم ہے کہ عورت کی حرمت کو سیاسی طاقت سے بالاتر سمجھا جائے۔ اب محض بیانات، معذرتیں یا وقتی احتجاج کافی نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایسے سخت اور مؤثر قوانین نافذ کیے جائیں جو نہ صرف مجرم کو سزا دیں بلکہ آئندہ کسی کو بھی عورت کی عزت سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔
کیونکہ یہ یونان و مصر نہیں یہ ہندوستان ہے، اور ہندوستان میں عورت کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔



