ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
عرسِ غریب نواز: عقیدت کا ہجوم یا تعلیمات کا امتحان؟
سچ ہے کہ بلا لحاظ مذہب و ملت، لاکھوں عقیدت مند خواجہ کے در پر حاضر ہوتے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ سیاسی جماعتیں، اقتدار کے نمائندے اور وہی طاقتیں—
جو سال بھر نفرت کے بیج بوتی ہیں،
زبانوں کو کچلتی ہیں،
اقلیتوں کو مشکوک بناتی ہیں—
عرس کے دن بڑے اہتمام سے چادریں چڑھاتی ہیں، پھول نچھاور کرتی ہیں، کیمرے آن کرتے ہیں، اور سر جھکا کر تصویر کھنچوا لیتی ہیں۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، جنہیں دنیا غریب نواز کے لقب سے جانتی ہے، برصغیر کی وہ درخشاں روحانی ہستی ہیں جنہوں نے مذہب، نسل، ذات اور زبان کی تمام دیواریں گرا کر انسان کو انسان سے جوڑنے کا درس دیا۔ ان کا پیغام نہ صرف صوفیانہ تھا بلکہ مکمل انسانی، اخلاقی اور سماجی ضابطۂ حیات تھا۔
عرسِ غریب نواز کے موقع پر اجمیر شریف کا منظر اس بات کا عملی ثبوت ہوتا ہے کہ خواجہؒ کی محبت کی شمع آج بھی روشن ہے۔ مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی—سب بلا لحاظ مذہب و ملت ان کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں۔ یہ اجتماع اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خواجہؒ کی روحانی کشش سرحدوں، عقائد اور تعصبات سے ماورا ہے۔
ہر سال سیاسی جماعتیں، اقتدار کے ایوانوں سے وابستہ شخصیات اور حتیٰ کہ فرقہ پرست طاقتیں بھی درگاہ پر چادر، گل اور نذرانے پیش کرتی ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ انہی میں سے اکثر قوتیں عملی زندگی میں نفرت، تفریق، مذہبی تنگ نظری اور سماجی ناانصافی کو ہوا دیتی نظر آتی ہیں۔
یہ طرزِ عمل خواجہؒ کی تعلیمات سے کھلی تضاد رکھتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ
کیا یہ حاضری صرف رسمی عقیدت تک محدود ہوگی ؟
خواجہ معین الدین چشتیؒ کا پیغام سادہ مگر بے حد گہرا تھا:
“محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں”
انہوں نے طاقت کے بجائے خدمت، جبر کے بجائے شفقت، اور مذہبی اجارہ داری کے بجائے انسان دوستی کو فروغ دیا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی عبادت بھوکوں کو کھانا کھلانا، مظلوم کا ساتھ دینا اور کمزور کی ڈھال بننا تھی۔
آج اگر سیاسی جماعتیں واقعی غریب نواز کے آستانے پر سچی عقیدت کے ساتھ حاضر ہونا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے:
مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے سے باز آنا ہوگا،
زبان، ثقافت اور شناخت کے احترام کو یقینی بنانا ہوگا،
اور سماج کے حاشیے پر کھڑے انسانوں—غریب، عورت، اقلیت—کو عزت اور انصاف دینا ہوگا۔
عرس محض ایک روحانی میلہ نہیں، بلکہ احتساب کا لمحہ ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے پوچھیں:
کیا ہم خواجہؒ کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں جگہ دیتے ہیں؟
یا صرف چند دن کی رسموں میں انہیں قید کر دیتے ہیں؟
خواجہ غریب نوازؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، مگر وہ ہم سے عمل کا تقاضا کرتا ہے—
صرف چادر نہیں، کردار
صرف نعرہ نہیں، رویہ
صرف حاضری نہیں، انسانیت
اگر ہم واقعی غریب نواز کے عقیدت مند ہیں تو ہمیں اپنے سماج کو بھی غریب نواز بنانا ہوگا-



