وی سی ریسرچ ایوارڈ، نظم گوئی، تقریری اور تحریری مقابلوں میں
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ ، ڈاکٹر ثمینہ بیگم ، نسرین بیگم ، شاذیہ بانو اور انجم بیگم کو انعامات
ویراناری چاکلی الما ویمنس یونیورسٹی(وی سی آئی ڈبلیو یو ) ، حیدرآباد، تلنگانہ کی جانب سے انقلابی شخصیت ویراناری چاکلی الما کی 131 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شعبہ اردو نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد اہم اعزازات اپنے نام کیے۔ شعبہ اردو کی سابق صدر ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کو وی سی ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ شعبہ کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر ثمینہ بیگم نےنظم گوئی کے مقابلے میں انعامِ اول حاصل کیا۔ اس کے علاوہ شعبہ اردو سے وابستہ طالبات نے تقریری اور تحریری مقابلوں میں بھی شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر چار انعامات حاصل کیے۔

ویراناری چاکلی الما ویمنس یونیورسٹی کی جانب سے الما کی 131 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر 22 ستمبر 2026 کو جامع نوعیت کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کے پی جی سیمینار ہال میں صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں کا بنیادی مقصد طلبہ اور اساتذہ میں موجود صلاحتوں کا اعتراف کرنا تھا ۔
اس موقع پر طالبات، اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے مختلف نوعیت کے مقابلے منعقد کیے گئے۔ مقابلوں میں اردو، تیلگو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا، جس سے یونیورسٹی کی کثیر لسانی اور ہمہ جہت تعلیمی و ثقافتی روایت کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان مقابلوں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طالبات کے لیے تقریری مقابلہ، مضمون نویسی، ریل میکنگ، سولو سنگنگ، پورٹریٹ پینٹنگ اور مونو ایکٹنگ شامل تھے،علاوہ ازیں فیکلٹی ممبران اور ریسرچ اسکالرز کے لیے منی فیچر یا اخبار کی طرز پر مضمون نویسی، تخلیقی نظم نگاری اور نغمہ نگاری کے مقابلے منعقد کیے گئے۔
یہ بھی پؒڑھیں :ویمنس یونی ورسٹی کی طالبات کا دورۂ ادارہ ادبیات اردو
شعبہ اردو کی نمایاں علمی و ادبی کامیابی
ان مقابلوں میں شعبہ اردو کی کارکردگی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ شعبہ کی سابق صدر ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کو ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں وی سی ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز شعبہ اردو کی علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کا اعتراف قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کی علمی و تحقیقی خدمات نے یونیورسٹی میں اردو کے فروغ اور اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو تقویت پہنچائی ہے۔
اسی طرح شعبہ اردو کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر ثمینہ بیگم نے نظم گوئی کے مقابلے میں انعامِ اول حاصل کیا۔ ان کی یہ کامیابی شعبہ اردو میں تخلیقی ادب اور بالخصوص شعری اظہار کی مضبوط روایت کی عکاسی کرتی ہے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ ادبی تخلیق میں اساتذہ کی فعال شرکت طالبات کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہے۔
طالبات نے چار انعامات حاصل کیے
شعبہ اردو کی طالبات نے بھی مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور مجموعی طور پر چار انعامات حاصل کیے۔ بین الکلیاتی تقریری مقابلے میں بی ایس سی سال ایم ای سی ایس اول کی طالبہ نسرین بیگم نے انعامِ اول حاصل کیا۔ ان کی کامیابی ان کی مؤثر تقریری صلاحیت، موضوع پر گرفت اور پُراعتماد اندازِ اظہار کا نتیجہ قرار دی گئی۔
اسی مقابلے میں بی سی ایس ایم پی سی سال اول کی طالبہ شاذیہ بانو نے انعامِ دوم حاصل کیا۔ شاذیہ بانو نے تقریر کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور خاص کر اپنی تقریر کا آغاز شعر سے کیا جوکہ سائنس کی طالبہ ہونے کے باجود اردو ادب سے انکی دلچسی کا مظہر ہے ۔علاوہ ازیں شاذیہ بانو نے تحریری مقابلے میں بھی کامیابی حاصل کی اورتحریری مقابلے میں انعامِ دوم حاصل کیا۔ ایک ہی طالبہ کا تقریری اور تحریری دونوں مقابلوں میں انعام حاصل کرنا شعبہ اردو کی خدمات اور لگن کا نتیجہ ہے۔
تحریری مقابلے میں بی اے سال سوم کی طالبہ انجم بیگم نے انعامِ سوم حاصل کیا۔ اس طرح شعبہ اردو کی طالبات نے تقریر اور تحریر دونوں شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ڈاکٹر محمد احتشام الحسن کی سرپرستی میں طلبہ کی تیاری
شعبہ اردو کی ان کامیابیوں میں طلبہ کی محنت کے ساتھ شعبہ کے استاد ڈاکٹر محمد احتشام الحسن کی رہنمائی اور سرپرستی بھی اہم رہی۔ مقابلوں میں شرکت کرنے والی طالبات نے ان کی نگرانی میں تیاری کی اور مختلف علمی و ادبی مقابلوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔

تقریری مقابلوں کے لیے طالبات نے موضوع کے انتخاب، مواد کی ترتیب، زبان و بیان، تلفظ، اندازِ پیشکش اور وقت کی پابندی پر خصوصی توجہ دینے میں ڈاکٹر محمد احتشام الحسن کی خدمات حاصل کی ، جبکہ تحریری مقابلوں کے لیے موضوع کی تفہیم، مواد کی تنظیم، زبان و اسلوب اور مؤثر اظہار کے لئے بھی ان کی رہنمائی نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ طالبات کی نمایاں کامیابی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مناسب رہنمائی اور مسلسل محنت کے ذریعہ طلبہ مختلف مسابقتی اور بین الکلیاتی پلیٹ فارم پر نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
اساتذہ اور طالبات کی کامیابی، شعبہ کے لیے اعزاز
شعبہ اردو کے اساتذہ اور طالبات کی مسلسل کامیابی کو شعبہ کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ہی پروگرام میں تحقیقی اعزاز، شعری مقابلے میں انعام اول ، تقریری مقابلے میں پہلا اور دوسرا انعام ور تحریری مقابلوں میں دوسرا اور تیسرا انعام حاصل کرنا شعبہ اردو کی مجموعی تعلیمی و تخلیقی سرگرمیوں کی مضبوط عکاسی کرتا ہے۔

یہ کامیابیاں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ یونیورسٹی میں اردو زبان کو دیگر ہندوستانی اور عالمی زبانوں کے ساتھ مسابقتی اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیے یکساں مواقع حاصل ہیں۔ طالبات نے نہ صرف اردو زبان و ادب سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا بلکہ اپنی تقریری، تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بین الکلیاتی سطح پر منوایا۔
ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں اعزازات کی پیش کش
مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فاتحین کو ویمنز یونیورسٹی کےاسریٰ ہال میں منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران اعزازات سے نوازا گیا۔ کامیاب اساتذہ اور طالبات کو سند، مومنٹو اور نقد انعامات پیش کیے گئے۔ ان اعزازات نے نہ صرف کامیاب شرکا کی حوصلہ افزائی کی بلکہ دیگر طالبات کو بھی علمی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔
طلبہ کےلئے مقابلوں میں پہلا انعام حاصل کرنے والوں کے لیے 2,000 روپے، دوسرے انعام کے لیے 1,500 روپے اور تیسرے مقام کے لیے 1,000 روپے نقد انعام مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کامیاب شرکا کو یادگاری مومنٹو اور سرٹیفکیٹ دیے گئے، جبکہ مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام شرکا کے لیے شرکت کے سرٹیفکیٹ کا بھی انتظام کیا گیا۔
اردو زبان و ادب کے فروغ کی جانب اہم قدم
ویرناری چاکلی الہما ویمنز یونیورسٹی کی جانب سے اس طرح کے علمی اور ادبی پروگراموں کا انعقاد اردو سمیت ہندوستان کی مختلف زبانوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ خاص طور پر خواتین طالبات اور ریسرچ اسکالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
شعبہ اردو کی حالیہ کامیابیاں اس امر کی واضح مثال ہیں کہ اردو زبان و ادب نہ صرف ادبی حلقوں تک محدود ہے بلکہ تحقیقی، تقریری، تحریری اور تخلیقی مقابلوں میں بھی نئی نسل کے لیے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کا تحقیقی اعزاز، ڈاکٹر ثمینہ بیگم کی نظم گوئی میں کامیابی اور نسرین بیگم، شاذیہ بانو اور انجم بیگم کی نمایاں کارکردگی نے شعبہ اردو کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو ایک نئی منزل عطا کی ہے جو مستقبل میں مزید طلبہ کو مقابلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دے رہی ہے
مجموعی طور پر ویرناری چاکلی الما کی 131 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ یہ پروگرام نہ صرف ایک انقلابی شخصیت کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ مختلف یونیورسٹوں اور کالج کی طالبات اور اساتذہ کو اپنی علمی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔


Good
ایوارڈز اور انعامات حاصل کرنے والے فاتحین ،ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ ، ڈاکٹر ثمینہ بیگم ، طالبات میں شاذیہ بانو، نسرین بیگم اور انجم بیگم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور بھی ترقی عطا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین ثم آمین
Mashallah bht zabardast
Mashallah mashallah bht khoob.ap jaise asateza jahan par bhi ho wahan salheten r qabiliten apna natija dikhati hai.ap jaise asateza se urdu abhi baaqi hai.
Masha allah
یوارڈز اور انعامات حاصل کرنے والے فاتحین ،ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ ، ڈاکٹر ثمینہ بیگم ,ڈاکٹر محمد احتشام الحسن …• آپ کو اس نئے اعزاز پر میری طرف سے دلی مبارکباد۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ آپ کی کامیابی کا صرف ایک آغاز ہے۔ اللہ آپ کو مزید ترقی عطا فرمائے۔ .
• آپ کی کوشش اور قابلیت کو آج جو پہچان ملی ہے، اس پر ہم سب کو بے حد فخر ہے۔ بہت بہت مبارک!
شاعری کے ساتھ (Poetic)
• "اڑان ایسی ہو کہ آسماں بھی چھوٹا پڑ جائے،
آپ کی ہر کوشش کو ایک نیا مقام مل جائے۔”
میرے پیارے دوست، اس شاندار ایوارڈ پر آپ کو بہت بہت مبارکباد…..