Nida e Naseem

Date: 23/10/2026 11 جمادی الاول 1448 ھ
آج کا شعر: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا (غالب )

آخر وہ کون تھی ؟

شاذیہ بانو

بی ایس سی ، سال اول

 ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونی ورسٹی ،کوٹھی ،حیدرآباد۔

حامد کار کی رفتار مسلسل تیز کررہا  تھا کیونکہ رات کے تقریباً دو بج رہے تھے اور  آگے پھر وہ سڑک  بھی تھی جسے وہ ہر مسافر  جلد سے جلد پار کرنا چاہتا ہے اور حامد بھی اس سڑک کو جلد عبور کرلینا چاہتا تھا ۔

سڑک سنسان تھی۔ دور دور تک کوئی آدم زاد  دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ چاروں طرف ایسا اندھیرا پھیلا تھا جیسے رات نے پوری سڑک کو اپنے اندر نگل لیا ہو۔

صرف گاڑی کی ہیڈ لائٹس  میں چند گز آگے تک کا راستہ دکھائی  دے  رہا تھا ۔کار کی روشنی بھی اندھیرے کی طاقت کے آگے اپنے ہتھیار ڈال چکی تھی۔ حامدڈرائیونگ میں ماہرتھا لیکن  اس   کے باوجود وہ کار کوبمشکل چلاپارہا تھا ، حامد کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ رات کے اندھیرے اور اس سڑک کی پراسرار کہانیوں کے خوف سے شاید کار کی نشت پر ہی دم توڑدیتا ۔

یہ بھی پڑھیں :ویمنس یونی ورسٹی کی طالبات کا دورۂ ادارہ ادبیات اردو

کار پوری رفتار سے اپنی منزل کی سمت آگے پڑرہی تھی کہ اچانک بڑے بھائی شاہد کی نظر سڑک کے کنارےموجود خطرے پر  پڑی۔

خوف ناک رات میں سنسان سڑک پرایک لڑکی کھڑی تھی۔

لڑکی نے گہرا سرخ لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے لمبے، الجھے ہوئے بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ بالکل ساکت کھڑی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ اتنی رات گئے، اتنی سنسان سڑک پر وہ نہ پریشان دکھائی دے رہی تھی، نہ کسی گاڑی کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور نہ مدد مانگ رہی تھی ۔

وہ بس کھڑی تھی۔

اور شاید…

ان ہی کا انتظار کر رہی تھی۔

حامد نے گاڑی کی رفتار کم کردی۔

اور آہستہ سے کہا  ’’شاید اس لڑکی کو  مدد کی ضرورت ہے۔”

اس کے بھائی نے فوراً کہا، "گاڑی مت روکنا۔”

حامد کی آنکھوں میں بے چینی تھی اور اس نے پوچھا "کیوں؟”

شاہد نے کہا "پتا نہیں… بس ایک خوف ہورہا ہے اور  دل کہہ رہا ہے آگے چلو۔”

حامد نے ایک لمحے کے لیے لڑکی کو دیکھا۔

اسی لمحے لڑکی نے اپنا سر آہستہ سے اٹھایا۔

حامد کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر جم گئے۔

کیونکہ لڑکی کا چہرہ معمول کے انسانی چہرے جیسا نہیں تھا۔

جلد غیر معمولی حد تک زرد اور کھنچی ہوئی تھی۔ ہونٹ سیاہی مائل تھے اور ان کے کناروں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی لیکن ان سب میں  سب سے خوفناک چیز اس کی آنکھیں تھیں۔

آنکھوں میں پتلیاں ہی نہیں تھیں۔

صرف گہرا سیاہ دائرہ۔

لڑکی نے گردن ایک طرف جھکائی اور سیدھا گاڑی کی طرف دیکھنے لگی۔

حامد نے فوراً گاڑی آگے بڑھا دی۔

کچھ فاصلے پر پہنچ کر اس نے ریئر ۔ویو۔ مرر میں دیکھا۔

لڑکی وہاں نہیں تھی۔

اس کے بعد شاہد نے کہا "دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا، وہ چلی گئی۔”

حامد اس پراسرار منظر کو دیکھ رہا تھا لیکن اس نے کچھ نہیں کہا۔

اس کے دل میں عجیب سا خوف بیٹھ گیا تھا۔

پھر اچانک اس کے بھائی نے پیچھے دیکھتے ہوئے سرگوشی کی:

"حامد…” او و     حامد

"کیا ہوا؟”

"گاڑی مت روکنا۔”

"کیوں؟”

اس نے کانپتے ہوئے ریئر۔ ویو۔ مرر کی طرف اشارہ کیا۔

حامد نے آئینے میں دیکھا۔

وہ لڑکی گاڑی سے بہت دور پیچھے سڑک پر کھڑی تھی۔

لیکن  چندہی لمحوں بعد…

وہ اچانک کار کے پیچھے سڑک سے  غائب ہوگئی۔

یہ منظردیکھ کر حامد نے سکون کا سانس لی۔

لیکن اسی لمحے پچھلی سیٹ سے کسی کے خوف ناک انداز میں لیکن آہستہ ہنسنے کی بہت ہلکی آواز آئی۔

"ہہ… ہہ… ہہ…”

دونوں بھائیوں کے جسم سن ہوگئے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ دونوں برف کے مجسم بن چکے ہیں ۔خوف کی وجہ سے ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی  اور ماتھے پر پسینے کی موتیاں صاف دکھائی دی رہی تھی ۔

شاہد نے آہستہ سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔

"تم نے سنا؟”

حامد نے جواب نہیں دیا۔

لیکن شاہدبے ساختہ  پچھلی سیٹ کو دیکھ رہا تھا۔

حامد نے بھی آہستہ سے گردن موڑی۔

پچھلی سیٹ خالی تھی لیکن ہسنے کی آواز بدستور کانوں کو پریشان کررہی تھی ۔سیٹ خالی تھی  جس کی وجہ سے حامد اور شاہد دونوں پر خوف طاری تھا اور ان کا بدن کانپ رہا تھا  چونکہ ہسنے والا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔

جب دونوں بھائیوں نے ہمت جٹاکر  سیٹ کا بغور جائزہ لیا تو سیٹ کے  درمیان سرخ لباس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا پڑا تھا۔

حامد نے کانپتے ہاتھ سے اس کپڑے کو  اٹھایا اور پوری قوت کے ساتھ اسے کار کے باہر پھینک دیا ۔جیسے ہی کپڑا باہر گیا ،

اچانک گاڑی کے تمام شیشے اندر سے دھندلا گئے۔

اور دھندلے شیشے پر کسی انگلی نے آہستہ آہستہ لکھا:

"مجھے کیوں چھوڑ گئے؟”تم نہیں بچوگے ۔۔۔۔۔۔

دونوں بھائیوں کی چیخ نکل گئی۔

حامد نے اپنا پیر ایکسلیٹر پر زور دے مارا اور کار پوری رفتار سے دوڑپڑی ۔

مگر چند لمحوں بعد اس کے بھائی نے سامنے کی طرف دیکھ کر خوف زدہ آواز میں کہا:

"حامد… گاڑی روکو!”

"کیوں؟”

"سامنے دیکھو!”

سڑک کے عین درمیان…

وہی لڑکی کھڑی تھی۔

سرخ لباس ہوا کے بغیر بھی لہرا رہا تھا۔

اس کے بال آہستہ آہستہ چہرے سے ہٹنے لگے۔

اس بار اس کا پورا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا  تھا۔

آنکھیں مکمل کالی۔

چہرے پر خوفناک مسکراہٹ۔

اور گردن…

غیر معمولی زاویے سے ایک طرف جھکی ہوئی۔

حامد نے بریک لگائی۔

گاڑی رک گئی۔

لڑکی نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

پھر اس نے ایسی آواز میں کہا جو کسی انسان کی آواز نہیں لگ رہی تھی:

"تم دونوں میں سے… حامد کون ہے؟”

حامد کا خون خشک ہوگیا۔

کیونکہ…

حامد نے اپنا نام اس پراسرار لڑکی کو بتایا ہی نہیں تھا۔

اور اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ اس کا بھائی اچانک خاموش ہوگیا تھا۔

حامد نے اس کی طرف دیکھا۔

وہ سیٹ پر موجود نہیں تھا۔

پھر حامد کے کان کے بالکل قریب کسی نے سرگوشی کی:

"اب صرف تم باقی ہو.

(سلسلہ جاری ہے )

 

(نیا قلم، نیا اظہار” کے عنوان کے تحت ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام تحریریں طلبہ اور نوجوان قلم کاروں کی تخلیقات ہیں۔ ان تحریروں میں پیش کیے گئے خیالات، آرا اور نقطۂ نظر سے ادارے یا ویب سائٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ان تخلیقات کی اشاعت کا مقصد صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، تخلیقی اظہار کو فروغ دینا اور ادبی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے۔ تحریروں کی صحت، مواد اور خیالات  مکمل طور پر قلم کاروں کی تخلیق ہیں ۔)

0 0 votes
Article Rating

Leave a Reply

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
اوپر تک سکرول کریں۔
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x