ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
اسسٹنٹ پروفیسر۔ اردو
ویمنس یونی ورسٹی , تلنگانہ ۔حیدرآباد
” انا کی وراثت ”
پہلا انکار
زمین پر نہیں ہوا تھا۔
وہ آسمان کی دہلیز پر تھا
جب ایک صدا اُبھری:
“میں اس سے بہتر ہوں۔”
وہ لمحہ
صرف نافرمانی نہ تھا،
وہ انا کا پہلا ظہور تھا۔
پھر
انا نے زمین پر
جسم اختیار کیا۔
قابیل کے دل میں
حسد نے آنکھ کھولی،
اور اس نے
اپنے بھائی
ہابیل کو
قتل کر دیا۔
یہ پہلا خون
صرف ایک جسم کا نہ تھا،
یہ انکسار کا قتل تھا،
قبولیت کا قتل،
رضا کا قتل
اور
انسان کے اندر
انسانیت کا قتل
تب سے
انا
نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے
وراثت کی طرح نہیں،
ایک متعدی بیماری کی طرح
ہر وہ شخص
جو حق کو برداشت نہیں کر پاتا،
ہر وہ دل
جو عطا پر جل اٹھتا ہے،
ہر وہ ذہن
جو خود کو معیار سمجھتا ہے
وہ
اسی پہلی صدا کا وارث ہے
ہابیل کا لہو
زمین میں جذب ہوا،
مگر
انا کا بیج
دلوں میں اُگ آیا
اور آج بھی
ہر قتل سے پہلے
خنجر نہیں اُٹھتا
ایک خیال اُٹھتا ہے:
“میں اس سے بہتر ہوں

