
سنیلہ صدف
ایم اے اردو ۔ ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونی ورسٹی ،حیدرآباد
طالب علموں کی زندگی ویسے تو کئی یادگار لمحات پر محیط ہوتی ہے جس میں خاص کر تفریحی غرض سے کسی اہم ادارے کا جب دورہ ہوتا ہے تو یہ دوہری خوشی کا سبب بن جاتا ہے ۔ایک طرف اساتذہ کی رہنمائی سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری جانب ساتھیوں کے ساتھ ایک اچھا وقت گزارنا کا فی سود مند ثابت ہوتا ہے ۔ ایم اے سال اول کے ابتدائی سمسٹر میں جب یہ موقع مل جاتا ہے تو تعلیمی سفر کی شروعات بھی یادگار ہوتی ہے ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ۔

ایوان اردو جسے ادارہ ادبیات اردو پنجہ گٹہ بھی کہا جاتا ہے یہ ایک نہایت اہم ادبی و ثقافتی مرکز ہے اس کا تعلیمی دورہ ہم ویمنس یونی ورسٹی کے طلبہ کےلئے تعلیمی سفر میں ایک روشن باب ثابت ہوا ۔یہ ادارہ نہ صرف ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہے بلکہ تہذیب اور ثقافت کا پاسباں بھی ہے۔یہاں مختلف ادبی تعلیمی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں .جس سے اہل ادب کو فائدہ پہنچتا ہے۔ان سرگرمیوں کے ذریعہ نئی نسل میں اردو زبان سے محبت اور دلچسپی پیدا کی جاتی ہے۔
اساتذہ محترم ڈاکٹرمحمد احتشام الحسن، محترمہ ڈاکٹر ثمینہ بیگم اورمحترمہ ڈاکٹر غوثیہ بانو کے زیر نگرانی ایم اے اردو سال اول کی طالبات نے ایک دورہ کیا۔اس دورہ کا مقصد طلبہ کو محض تفریحی ہی نہیں بلکہ اردو سرگرمیاں،تاریخ و ادبی خدمات،خطاطی کے فن پاروں کا مشاہدہ،مخطوطات کا مطالعاتی جائزہ،کتب خانے میں کتب کا ذخیرہ اندوزی کا طریقہ کار ور اردو کی بقاء کے فروغ میں اہم شخصیتوں سے واقف کرواناتھا۔
یہ بھی پڑھیں: دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کا تقابلی جائزہ
میوزیم میں داخل ہوتے ہی مختلف ایک خوشگوار احساس ہونے لگا کیونکہ ہال میں اردو کے نامور شعراء ،ادباء اورمفکرین کی بڑی تصاویر چسپاں ہیں جن میں ڈاکٹرمحی الدین قادری زور ،الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی، ابن نشاطی اور محمد حسین ازاد قابل ذکری ہیں ۔یہ تمام تصاویر نہایت ہی ترتیب وار رکھی گئی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک ادبی سفر کا احساس ہوتا ہے۔ایک حصے میں اہم شخصیت مثلاً محی الدین قادری زور کہ آ با و اجداد کی تصاویر بھی موجود ہیں ۔

میوزیم کا تفریحی پہلو اس وقت مزید نمایاں ہوا جب طالبات اہم شخصیتوں کی آ ویزاں اور تاریخی دستاویزات کا مشاہدہ کیا یہ سب نادر اشیاء اس انداز میں پیش کی گئی ہے کہ طلبہ اور قارئین سبھی دلچسپی محسوس کرتے ہیں۔اس طرح میوزیم تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مندتفریح بھی فراہم کرتا ہے۔
ایوان اردو ادبیات کا ہمارا یہ سفر محترم عبدالغفار صاحب(بین الا قوامی ایوارڈ یافتہ استاد خطاطی) کی دلچسپ ملاقات کے بغیر نامکمل رہتا ۔آپ نے ایوان اردو کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محی الدین قادری زور جن کی قربانی اور بےغرض خدمات ادارہ کے قیام اور ارتقاء میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔مجلس انتظامی نے محترمہ تہنیت النساء تہنیت(بیگم صاحبہ) ڈاکٹر زور سے عمارت کے لیے زمین عطا کرنے کی خواہش کی۔اس زمین کی ادارے کے نام بطور عطیہ رجسٹری کرا دی۔جس کا مقصد اردو زبان،ادب،تحقیق اور مخطوطات کے تحفظ کے لیے مستقل مرکز قائم کرنا تھا۔
علاوہ ازیں محترم عبدالغفار صاحب نے ڈاکٹر محی الدین زور کے فرزند رفیع الدین قادری زور صاحب سے بھی ملاقات کروائی ۔جو ایوان اردو ادبیات انہی کی زیرنگرانی میں ہے ۔ جب میں نے ایوان اردو میں خطاطی کے فن پاروں کا مشاہدہ کیا تو یہ احساس ہوا کہ خطاطی محض خوبصورت تحریر کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی اور فکری فن ہے۔ہرفن پارے میں حروف کی بناوٹ،سطروں کا توازن اور رنگوں کا امتزاج دیکھنے والے کومسحور کردیتا ہے۔جیسے قرانی آیات ،احادیث مبارک ﷺ ،نعتیہ اشعار اور معروف اردو کے شعراء کہ منتخب اشعار نہایت ہی نفاست کے ساتھ تحریر کیے گئے تھے۔
با لخصوص نستعلیق اور نسخ میں تیار کردہ فن پارے اپنی مثال آپ ہیں۔بعض فن پاروں میں سیاہی اور کاغذ کی سادگی نمایاں تھی دو بعض میں سنہری رنگ دلکش نقش و نگار جیسے گرافک ڈیزائن،عبرو،خط معکوس کے علاوہ الائچی کے جلد اورمسور کی دال پر اللہ اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کا نام تھا ۔اسی طرح سے انڈے پر بھی سورۃ روم کی آ یت نمبر انیس کی شاندار خطاطی کی گئی تھی۔جس کا ترجمہ (زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے) جو نہایت ہی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔
ایوان اردو میں مخطوطات میں شعری مجموعے،تذکرے، تاریخی دستاویزات،دینی واخلاقی رسائل،خطوط اورنثر کے نادر نمونے شامل ہیں۔ان مخطوطات میں اس دور کی خطاطی اور فنی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔مخطوطات کے مطالعا تی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو ادب نے مختلف ادوار میں کن مراحل سے گزرکرارتقاء پایا۔زبان کی سادگی،محاورے کا استعمال،موضوعات کی وسعت اور فکری گہرائی ان موضوعات کے اہم پہلو ہیں۔

ادارے میں ایک ضخیم کتب خانہ بھی موجود ہے ۔جہاں ہم نے لائبریرین محترمہ صبیحہ بیگم صاحبہ سے ملاقات کی۔جنہوں نے ہمیں بہت ہی محبت کے ساتھ کتب خانہ میں موجود نادرکتابوں،اخبارات اور رسائل سے واقف کروایا ۔کتب خانہ میں ایسے نادرنمونے دیکھنے کو ملے جنہیں دے کرعقل دنگ ہے رہ گئی۔بعض صفحات کو پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ آج سے تقریباً دیڑھ صدی قبل اردو لکھنے کا انداز اور اس کے الفاظ کیا تھے جن میں کئی الفاظ آج متروک ہوچکے ہیں۔

اسی طرح سے وہاں پر ہم نے محترم محمد سیف الدین صاحب سے بھی ملاقات کی۔جو ادارے ادبیات میں ریختہ ویب سائٹ پر کتاب اپ لوڈ کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ ہزار سے زائد کتابیں اردو ادبیات سے اپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔جو ادبی خدمات میں اہم کارنامہ ہے۔ اس دورے پر میں دل کی گہرائیوں سے اظہارتشکرکرتی ہوں اپنی معزز اساتذہ محترمہ ڈاکٹر ثمینہ بیگم اور محترمہ ڈاکٹر غوثیہ بانو بالخصوص محترم ڈاکٹر محمد احتشام الحسن کی شفقت،رہنمائی اورعلمی سرپرستی کے بغیر سفرممکن نہ تھا۔

اسی طرح سے ادارے کے معتمد محترم پروفیسر ایس اے شکورصاحب، محترم عبدالغفارصاحب،محترمہ صبیحہ بیگم اورمحترم محمدسیف الدین اردو کے فروغ میں بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت دے کرہمیں سیکھنے کا موقع دیا اور ادارے ادبیات اردو کے انمول تعلیمی سفرکو یقینی بنایا۔ان تمام حضرات سے ہم اظہار تشکر کرتے ہیں۔انہی کے تعاون کی وجہ سے ہمارا یہ دورہ کامیاب رہا۔
(نیا قلم، نیا اظہار” کے عنوان کے تحت ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام تحریریں طلبہ اور نوجوان قلم کاروں کی تخلیقات ہیں۔ ان تحریروں میں پیش کیے گئے خیالات، آرا اور نقطۂ نظر سے ادارے یا ویب سائٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ان تخلیقات کی اشاعت کا مقصد صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، تخلیقی اظہار کو فروغ دینا اور ادبی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے۔ تحریروں کی صحت، مواد اور خیالات مکمل طور پر قلم کاروں کی تخلیق ہیں ۔)




