
نسرین بیگم
بی ایس سی ، سال اول ۔ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونی ورسٹی ، کوٹھی حیدرآباد
’’آخر وہ کون تھی؟‘‘ کا تنقیدی جائزہ
شازیہ بانو کی تخلیقی صلاحیت، منظر نگاری اور تجسس کا عمدہ نمونہ
’’آخر وہ کون تھی؟‘‘میری ہم جماعت شازیہ بانو کی اولین تخلیقی تحریر ہے۔ میں اور شازیہ بانو چھٹی جماعت سے ایک ساتھ پڑھتے آئے ہیں۔ اس زمانے ہی سے مجھے ان کی ادبی صلاحیتوں اور تحریری ذوق کا اندازہ تھا، لیکن اس کہانی کے ذریعے ان کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی صلاحیت کو ایک نئے انداز میں دیکھنے کا موقع ملا۔
اس کہانی کی تخلیق کا پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ ہمارے استاد ڈاکٹر محمد احتشام الحسن نے ایک کلاس میں اردو ادب کی داستانی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے منظر نگاری کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی اور طالبات کو ہوم ورک کے طور پر ایک منظر تحریر کرنے کی ہدایت دی۔ اسی مشق کے نتیجے میں شازیہ بانو کے اندر چھپی ہوئی قلم کارانہ صلاحیت سامنے آئی۔ ان کی اس کاوش نے ہم جماعت سہیلیوں کو حیران بھی کیا اور ان کی تخلیقی قوت سے متعارف بھی کرایا۔
یہ بھی پڑھیں : آخر وہ کون تھی ؟
افسانہ ’’آخر وہ کون تھی؟‘‘ شازیہ بانو کی تخلیقی صلاحیت، نصابی مشاہدے اور منظر نگاری کے ابتدائی اظہار کی ایک قابلِ توجہ مثال ہے۔ اس کہانی میں انہوں نے خوف اور پراسراریت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہانی کا عنوان اپنے اندر ایک سوال پوشیدہ رکھتا ہے، جو قاری کے ذہن میں ابتدا ہی سے تجسس پیدا کرتا ہے۔ قاری یہ جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے کہ سنسان سڑک پر دکھائی دینے والی لڑکی کون ہے، وہ وہاں کیوں ہے اور اس کا حامد اور اس کے بھائی شاہد سے کیا تعلق ہے۔
کہانی کا آغاز حامد نامی نوجوان سے ہوتا ہے، جو رات کے تقریباً 2 بجے ایک سنسان اور پراسرار سڑک پر کار چلا رہا ہے۔ رات کی تاریکی، سڑک کا سنسان ہونا، دور دور تک کسی انسان کا دکھائی نہ دینا اور گاڑی کی ہیڈ لائٹس سے چند گز آگے تک راستہ نظر آنا، یہ تمام جزئیات مل کر ایک خوف ناک ماحول تخلیق کرتی ہیں۔ مصنفہ نے ابتدائی منظر کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری خود کو اس تاریک راستے پر سفر کرتے ہوئے محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ منظر نگاری کہانی کی فضا سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
کہانی میں اس وقت تجسس مزید بڑھ جاتا ہے جب حامد اور اس کا بھائی شاہد سڑک کے کنارے ایک لڑکی کو کھڑے دیکھتے ہیں۔ لڑکی کا گہرا سرخ لباس، چہرے پر بکھرے ہوئے الجھے بال اور رات کے اس پہر اس کا پُرسکون انداز اسے ایک عام انسان سے مختلف بنا دیتا ہے۔ حامد کے دل میں اس کی مدد کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے، لیکن شاہد اسے گاڑی روکنے سے منع کرتا ہے۔ اس موقع پر دونوں بھائیوں کے رویوں کا فرق بھی سامنے آتا ہے۔ حامد کے اندر ہمدردی کا جذبہ ہے، جب کہ شاہد کسی انجانے خطرے کو محسوس کر رہا ہے۔ یہاں مکالمے کے ذریعہ شازیہ نے کہانی کی ساتھ انصاف کرنے کی ایک بہترین کوشش کی ہے ۔
مصنفہ نے لڑکی کی غیر معمولی آنکھوں، زرد چہرے اور پراسرار مسکراہٹ کے ذریعے خوف کی کیفیت کو نمایاں کیا ہے۔ اس کے بعد لڑکی کا اچانک غائب ہو جانا اور پھر ریئر ویو مرر میں دوبارہ دکھائی دینا کہانی کے تجسس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ واقعات قاری کو مسلسل اس سوال میں الجھائے رکھتے ہیں کہ آیا یہ سب کسی مافوق الفطرت قوت کا اثر ہے یا کسی نامعلوم حقیقت کی طرف اشارہ۔ اس طرح شازیہ نے داستان کے مافوق الفطرت عناصر کو اپنی کہانی کا حصہ بناکر کمرہ جماعت میں پڑھاجانے والے اسباق سے استفادہ کا اظہار کیا ہے ۔
کہانی کا ایک مؤثر منظر وہ ہے جب دونوں بھائیوں کو کار کی پچھلی سیٹ سے کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دیتی ہے، لیکن سیٹ خالی ہوتی ہے۔ سرخ لباس کا ایک ٹکڑا ملنا، اسے کار سے باہر پھینکنا اور اس کے فوراً بعد گاڑی کے شیشوں کا اندر سے دھندلا جانا، کہانی کی پراسرار فضا کو مزید گہرا اور خوف ناک کر دیتا ہے۔ دھندلے شیشے پر ابھرنے والے الفاظ، ’’مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ تم نہیں بچوگے‘‘، قاری کے ذہن میں کئی نئے سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ان واقعات میں مصنفہ نے صوتی اور بصری عناصر کو یکجا کرکے خوف کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
کہانی کا اختتامی حصہ بھی تجسس سے بھرپور ہے۔ جب وہی لڑکی دوبارہ سڑک کے درمیان دکھائی دیتی ہے اور حامد سے اس کا نام پوچھتی ہے، تو صورتِ حال مزید پراسرار ہو جاتی ہے۔ حامد کے لیے سب سے زیادہ خوف ناک لمحہ وہ ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بھائی شاہد اچانک غائب ہو چکا ہے اور کوئی اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتا ہے، ’’اب صرف تم باقی ہو۔‘‘ اس مقام پر کہانی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ مصنفہ نے مسئلے کا فوری حل پیش کرنے کے بجائے اسے ایک سوال پر ختم کیا ہے، جس سے قاری کے اندر اگلے حصے کو پڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ کہانی کے آخر میں ’’سلسلہ جاری ہے‘‘ درج ہے، اس لیے یہ اختتام ایک مکمل انجام کے بجائے آئندہ واقعات کی تمہید بھی ہے۔
اس کہانی کی نمایاں خوبی منظر نگاری اور تجسس کی تدریجی تشکیل ہے۔ مصنفہ نے خوف ناک ماحول کو یک دم سامنے لانے کے بجائے مختلف واقعات اور جزئیات کے ذریعے بتدریج تشکیل دیا ہے۔ سنسان سڑک، تاریکی، کار کی روشنیاں، پراسرار لڑکی، خالی پچھلی نشست اور شیشے پر ابھرنے والے الفاظ جیسے عناصر کہانی کی فضا کو مؤثر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالموں کا استعمال بھی واقعات کو آگے بڑھاتا ہے اور کرداروں کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پراسرار لڑکی کی موجودگی اور حامد سے اس کے تعلق کے بارے میں آئندہ حصوں میں مناسب وضاحت کہانی کو مزید معنویت عطا کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ’’آخر وہ کون تھی؟‘‘ شازیہ بانو کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک امید افزا ابتدائی نمونہ ہے۔ اس میں منظر نگاری، ماحول سازی اور قاری کو تجسس میں مبتلا رکھنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔ یہ کہانی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مناسب رہنمائی، مسلسل مطالعے اور تخلیقی مشق کے ذریعے شازیہ بانو اپنی ادبی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکتی ہیں۔ ایک استاد کی جانب سے دی گئی مختصر سی مشق کا ایک باقاعدہ کہانی کی صورت اختیار کر لینا بھی اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں طلبہ کے اندر پوشیدہ تخلیقی جوہر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شازیہ بانو کی اس پہلی کاوش پر انہیں مبارک باد پیش کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وہ آئندہ بھی اسی ذوق و شوق کے ساتھ لکھتی رہیں گی اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بہتر بناتے ہوئے اردو ادب میں اپنی شناخت قائم کریں گی۔
(نیا قلم، نیا اظہار” کے عنوان کے تحت ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام تحریریں طلبہ اور نوجوان قلم کاروں کی تخلیقات ہیں۔ ان تحریروں میں پیش کیے گئے خیالات، آرا اور نقطۂ نظر سے ادارے یا ویب سائٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ان تخلیقات کی اشاعت کا مقصد صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، تخلیقی اظہار کو فروغ دینا اور ادبی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے۔ تحریروں کی صحت، مواد اور خیالات مکمل طور پر قلم کاروں کی تخلیق ہیں -)


That’s a interesting story the way she explained it very well that made me little bite fearfull but any how I enjoy it and Nasreen the way she observed it explain it very deeply and encourage her friend that is good part of her critical analysis