
دبستان دہلی اور دبستان لکھنو اردو ادب کے دو اہم دبستان ہیں ۔لیکن ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ اگر ہم دہلی کا تذکرہ کریں تو 1707 میں اورنگ زیب عالمگیر (رح ) کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہو گئی تھی ، جبکہ دبستان لکھنو میں سیاسی حالات’دہلی کی بہ نسبت پرسکون تھے جس کی اہم وجہ انگریزوں نے دفاعی نظام سنبھال لیا تھا۔
دہلی میں گزرتے وقت کے ساتھ مزید حالات بگڑرہے تھے۔امن و سکون ختم ہورہا تھا۔بدحالی کے اس دور میں دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو ہر طرف بربادی ہوئی لیکن دوسری طرف لکھنو میں نواب شجاع الدولہ اور دیگر نے اپنی رنگین مزاجی کے نتقوش گہرے کرنے لگے جبکہ نواب شجاع الدولہ عورتوں کے شائق تھے۔دولت کی فراوانی جس میں سلاطین کی عیش پسندی اور پست مذاقی نے طوائف کو معاشرے کا اہم جز بنا دیا تھا۔بازار بارونق ،عمارتیں خوبصورت،سیر گاہیں اور رقص و موسیقی کی محفلیں تھی۔
حالات کی وجہ سے دہلی اور لکھنو کی شاعری’ایک دوسرے سے مختلف ہے جیسا کہ دبستان دہلی کی شاعری میں” آ ہ "کا عنصر موجود ہے جبکہ لکھنو کی شاعری”واہ ” کی کیفیت نمایاں دیکھائی دیتی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں : کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں ، شخصیت سازی اور تابناک مستقبل کی کلید
دہلی کی شاعری میں حقیقت پسندی،احساسات و جذبات،تصوف اور روحانیت کا پہلو موجود ہے۔شعراء نے اپنے کلام میں غم، جدائی ،سادگی،بد امنی،نا امیدی،ویرانی اور خیال کی گہرائی کا ذکر کیا ہے جو دہلی کی داخلیت کو ظاہر کرتی ہے جبکہ اس کے برخلاف لکھنو کی شاعری میں جذبات سے زیادہ الفاظ کی نوک پلک سنوارنے،نفاست،شائستگی،تصنع اور زبان میں لطافت پر زور دیا جو زبان کے نقطے نظر سے زیادہ دلکش اور پرکشش ہے یہی ان کی خارجیت کو ظاہر کرتی ہے۔
دبستان دہلی کے نمائندہ شعراء کا تذکرہ کیا جائے تو میرتقی میر سب سے پہلے نظر آتے ہیں اور ان کی شاعری دیلی کی بہترین عکاسی کرتی ہے ۔
میر تقی میر کا یہ ملاحظہ کریں ۔۔
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کے صاحب میں نے
درد وہ غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر کا غم آفاقی نوعیت کا ہے جس میں غم عشق سے لے کر ،غم دنیا کے احوال موجود ہے ۔ان کی شاعری میں تجربات اور احساسات کا سچااظہار ہے۔دبستان دہلی کے دیگر شعراء کے کلام میں بھی یہ عناصر مل ہی جاتے ہیں۔
مرزا رفیع سودا
جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے
یہ یاد ہے ہم کو بہت یاد کرو گے
سودا کی شاعری میں زور و بیان،خیال بندی ،بے ساختی،درد و سوز،خلو ص اور جذبات کی سادگی ملتی ہے۔
خواجہ میر درد
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاقت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
یہاں تصوف،انسان کی معنوی حیثیت اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔
اس کے برخلاف دبستان لکھنو کے نمائندہ شعراء کو دیکھا جائے تو ان کی شاعری کی خصوصیات کچھ اس طرح ہے ۔
شیخ غلام علی حمدانی مصحفی
وہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو
درد و دیوار سے بہلا کے چلے اتے ہیں
ان کی شاعری میں شیرنی،رنگینی اور نمکینی موجود ہے
شیخ قلندر بخش جرات
کچھ اشارہ جو کیا میں نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی رات کے وقت
ان کی شاعری میں ایک اور نمایاں معاملہ بندی موجود ہے۔
حیدر علی آ تش
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو ایک خطرہ خون نہ نکلا
آتش کے کلام کی اہم خصوصیت میں نشاطیہ انداز،صفائی اور محاورات کا بہترین استعمال ہے۔
الغرض دبستان دہلی اور دبستان لکھنو میں زمین آسمان کو فرق کیوں نہ موجود ہو لیکن یہ اردو ادب کے دو ایسے ابواب ہیں جن کے تذکروں کے بغیر داستان اردو مکمل نہیں ہوتی۔
(نیا قلم، نیا اظہار” کے عنوان کے تحت ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام تحریریں طلبہ اور نوجوان قلم کاروں کی تخلیقات ہیں۔ ان تحریروں میں پیش کیے گئے خیالات، آرا اور نقطۂ نظر سے ادارے یا ویب سائٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ان تخلیقات کی اشاعت کا مقصد صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، تخلیقی اظہار کو فروغ دینا اور ادبی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے۔ تحریروں کی صحت، مواد اور خیالات مکمل طور پر قلم کاروں کی تخلیق ہیں ۔)



