ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
استاد اردو، حیدرآباد، دکن۔
آخری کرنسی
نہ مخمل،
نہ ریشم۔
پندرہ پیسے،
چار آنے۔
بس…
اتی سی
میری دنیا۔
یہ بھی پڑھیں : خوشبوئے خوں
بارش کی
چھم چھم،
کاغذ کی ناؤ۔
اسکول سے
بنک مارنا—
ایک دوپہر۔
امرود کے باغ،
کچی دیوار،
ایک چھلانگ،
چوری کے پھل—
جنت کا ذائقہ۔
کھیل کا میدان،
ہر دوڑ میں
اول۔
ہاتھ کا تکیہ،
زمین کا بستر،
آسماں کی چادر،
نیند کی گھاگر۔
تتلیوں کے رنگ
انگلیوں کی پوروں پر،
دھوپ کا ذرّہ
ہتھیلی بھر
سونا۔
ہر ماہ
پہلی تاریخ،
انتظار،
لائبریری کی
سیڑھیاں،
"ہلال”
"نور”
"بتول”
"پھول”
اور
پھر
تازہ ورق،
سیاہی کی
خوشبو۔
پھر…
وقت،
ایک خاموش بڑھئی—
کھڑکیاں،
دریچے،
روشنی بھی
سب اکھاڑ لے گیا۔
اب…
جیبیں بھری ہیں،
مگر دل…
خالی۔
پندرہ پیسے،
چار آنے،
اب بھی
کھنکتے ہیں۔
وہی
میری زندگی کی
آخری کرنسی۔




