
ڈاکٹر محمد احتشام الحسن
اسٹینٹ پروفیسر (پی ٹی) ، وی سی آئی ویمنس یونی ورسٹی
کوٹھی ،حیدرآباد ۔
ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگی اب کسی نئی ٹیکنالوجی کا نام نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے۔ سبزی خریدنی ہو، کریانہ کی دکان پر ادائیگی کرنی ہو، آٹو یاکیب کا کرایہ دینا ہو، ریسٹورنٹ کا بل چکانا ہو یا دوا خریدنی ہو، موبائل فون نکال کر کیوآرکوڈ اسکین کرنا ایک تقریباً غیر شعوری عمل بن چکا ہے۔ یو پی آئی نے چند ہی برسوں میں ہندوستان کے ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اگست 2026 میں یو پی آئی نے ریکارڈ 24.51 ارب لین دین انجام دئے، جن کی مجموعی مالیت 29.82 ٹریلین روپے رہی۔ یعنی روزانہ تقریباً 800 ملین ٹرانزیکشنز اور ہر سیکنڈ میں تقریباً 9,150 ادائیگیاں ہوئی ۔
یہ بھی پڑھیں : ویمنس یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں کمپیوٹر سیکشن کا افتتاح
یہ صرف ڈیجیٹل ادائیگی کی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک عالمی مثال بننے کی علامت ہے۔ لیکن اب ڈیجیٹل ادائیگی کا اگلا مرحلہ سامنے آرہا ہے اور یہ پہلے مرحلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہندوستان ایک ایسے نظام کے لیے فریم ورک تیارکررہا ہے جس کے تحت اے آئی ایجنٹس کم مالیت کی معمول کی یو پی آئی ادائیگیاں صارف کی ہر بار الگ منظوری کے بغیر کرسکیں گے۔ صارف پہلے ہی رقم کی حد اور اپنی شرائط طے کرے گا، جبکہ اے آئی انہی حدود کے اندر ادائیگی کرے گا۔

مثلاً صارف اپنے اے آئی ایجنٹ سے کہہ سکتا ہے کہ ہفتہ وارگھر کے راشن پر 2,000 روپے سے زیادہ خرچ نہ کیے جائیں۔ ایجنٹ ضرورت کو سمجھ کر اشیاکا انتخاب کرسکتا ہے، قیمتوں کا موازنہ کرسکتا ہے، آرڈر دے سکتا ہے اور مقررہ حدکے اندر ادائیگی بھی کرسکتا ہے۔ اسی طرح بجلی کا بل مقررہ تاریخ پر اداکرنا، مخصوص حد سے کم کرایہ ہونے پر ایرپورٹ کے لیے کیب بک کرنا یا ہر ماہ کی معمول کی خریداری خود مکمل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ادائیگی کو تیزکرنے والی نہیں۔ یو پی آئی نے ہمیں ادائیگی کرنا آسان بنایا، اے آئی ایجنٹ شاید یہ فیصلہ کرنا آسان بنادے کہ ادائیگی کب اورکیسے کی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی میں ایک نئے انداز سے داخل ہوگی۔ آج ہم ہر خریداری کے وقت خود فیصلہ کرتے ہیں، کل ممکن ہے کہ ہم صرف اصول طے کریں اور باقی فیصلہ مشین پر چھوڑدیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیسوں کے بارے میں اے آئی کو کتنی آزادی دینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر اے آئی کسی ایسی چیزکا انتخاب کرلے جو سستی تو ہو لیکن ہماری پسندکی نہ ہو توکیا ہوگا؟ اگر وہ ”معمول کی خریداری“ کا مطلب ہماری توقع سے مختلف سمجھے؟ اگر کسی آن لائن پلیٹ فارم کی حکمت عملی اے آئی کو مہنگی چیز منتخب کرنے پر مائل کردے؟ اور اگر اے آئی نے تکنیکی طور پر درست لیکن ہماری مرضی کے خلاف فیصلہ کرلیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ سب سے اہم سوال اس وقت سامنے آئے گا جب غلطی، دھوکہ دہی یا غیر مجاز ادائیگی کا معاملہ پیش آئے۔ صارف رقم واپس لینے کا ذمہ دارکس کو سمجھے گا؟ اے آئی تیارکرنے والی کمپنی، بینک، یو پی آئی پلیٹ فارم یا سامان فروخت کرنے والا ادارہ؟ یہ سوالات صرف ٹیکنالوجی سے متعلق نہیں بلکہ اعتماد، صارف کے حقوق اور قانونی جواب دہی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
اے آئی ایجنٹ کو ہمارے بینک اکاؤنٹ تک کھلی رسائی دینا خطرناک ہوسکتا ہے۔ بہتر نظام وہ ہوگا جس میں صارف پہلے سے طے کرے کہ اے آئی کیا خرید سکتا ہے،کتنی رقم خرچ کرسکتا ہے، کس وقت ادائیگی کرسکتا ہے اور کن حالات میں انسانی منظوری لازمی ہوگی۔ اس کے لیے اخراجات کی حد، شناخت کی تصدیق، ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ، فوری اطلاع، مشکوک ادائیگی کو روکنے کا نظام اور واضح قانونی ذمہ داری ضروری ہوگی۔
ہندوستان کو اس نئے مرحلے کا فائدہ اس لیے بھی حاصل ہے کہ یو پی آئی پہلے ہی کروڑوں صارفین کو فوری ڈیجیٹل ادائیگی کا عادی بناچکا ہے۔ اب اگلا مرحلہ کہیں زیادہ حساس ہے۔ سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم کیو آرکوڈ پر کتنا اعتماد کرتے ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم اپنے پیسوں کے فیصلے کرنے کے لیے ایک الگورتھم پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل ادائیگی کا مستقبل شاید اس میں نہیں کہ ہمیں ”پے“ کا بٹن دبانا مزید آسان ہوجائے۔ مستقبل یہ ہوسکتا ہے کہ ہم صرف کہیں، ”یہ کام تم سنبھال لو لیکن اس اعتماد کی سب سے بڑی شرط یہی ہوگی کہ مشین کو ہمیشہ یاد رہے کہ وہ ہمارا پیسہ خرچ کررہی ہے، اپنا نہیں، اور یہ اختیار ہماری سہولت کے لیے دیا گیا ہے، ہماری آزادی چھیننے کے لیے نہیں۔



