عثمانیہ, شعبہ اردو حاشیہ برداروں کے نرغے میں
جامعہ عثمانیہ کا شعبۂ اردوآج فکری قبضہ اور منظم تباہی کی منھ بولتی تصویر ہے جامعہ عثمانیہ کا شعبۂ اردو آج جس ذلت آمیز اور افسوس ناک صورتِ حال سے دوچار ہے، وہ کسی اتفاق یا وقتی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط ایک منظم فکری قبضے اور اقتدار پرست ذہنیت کی پیداوار ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے عہدوں پر قابض رہتے ہوئے مادرِ علمیہ کے اس تاریخی شعبے کو دانستہ طور پر برباد کیا، اور اب سبکدوشی کے بعد بھی اس کی لاش پر سیاست کھیلنے میں مصروف ہیں۔
یہ حضرات جنہیں علم، تدریس اور تحقیق سے کبھی کوئی حقیقی تعلق نہ رہا، اردو کے نام پر اقتدار اور شہرت سمیٹتے رہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے تحقیقی درجات دوسروں سے لکھوانا، کلاس روم سے عمداً دور رہنا، اور علمی گفتگو سے مکمل عاری ہونایہ سب ان کے ’’کارناموں‘‘ کی کھلی مثالیں ہیں۔ اردو کے طلبہ ان کے لیے محض سیڑھی تھے اور شعبہ اردو ایک ذاتی جاگیر۔
یہ بھی پڑھیں : ویمنس یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں کمپیوٹر سیکشن کا افتتاح
اخبارات کی سرخیوں میں رہنا، سیاسی گروہ بندی اور سستی شہرت کی ہوس ان کی اصل شناخت ہے۔ علم و ادب ان کے لیے کبھی مقصد نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد دکن کے اردو ادارے آج مردہ حالت میں بے گور وکفن لاوراث پڑے ہیں، اور جامعہ عثمانیہ کا شعبۂ اردو بھی آخری سانسیں گن رہا ہے۔ شعبۂ اردو میں کمرے جماعت کی چند تصاویر حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی رہی جہاں دھول کی چادر اوڑھے بنچس اور بورڈ اپنی دکھ بھری داستاں بیان کررہے تھے۔
یہ المیہ بھی کم نہیں کہ سبکدوشی کے بعد بھی یہ افراد اداروں کا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں، گویا اردو کی رہی سہی روح بھی سلب کر لینا چاہتے ہوں۔ ایسے عناصر نہ استاد کہلانے کے مستحق ہیں، نہ رہنما، بلکہ یہ اردو کے فکری مستقبل کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
اب خاموشی جرم ہے۔ اردو کے سنجیدہ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ دانش کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ان غیر سماجی، موقع پرست اور فکری طور پر بانجھ عناصر کے رحم و کرم پر اردو کو چھوڑ دیں، یا اس مادرِ علمیہ کو دوبارہ علم، وقار اور دیانت کا مرکز بنائیں۔ تاریخ اب فیصلہ مانگ رہی ہے۔



