Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ماؤں کی مشعل

” ماؤں کی مشعل ”

اب گودیں خاموش نہیں رہیں گی۔
اب لوریاں بدلیں گی۔
اب مائیں
خوف نہیں،
حوصلہ جنیں گی-
وہ جانتی ہیں –
صہیونی طاقت
صرف بندوق نہیں،
ایک سوچ ہے
جو زمین سے زیادہ
نسلوں کو نشانہ بناتی ہے-

یہ بھی پڑھیں : احتجاجی نظم: ” نہ رادھا بچی، نہ رعنا”

مگر سن لو!
نسلیں
بارود سے نہیں مٹتیں،
وہ تب مٹتی ہیں
جب مائیں ہار مان لیں ۔
اور ہماری مائیں
ہار ماننا نہیں جانتیں۔
وہ اپنے بچوں کو
صلاح الدین کا نام دیں گی ۔
مگر اس کی تلوار سے پہلے
اس کا ظرف سکھائیں گی۔
وہ استقامت کی آگ دیں گی ۔
مگر ظلم کی راکھ نہیں۔
وہ کہیں گی:
“بیٹا!
اگر میدان میں اترو
تو حق کے لیے اترو،
اگر پرچم اٹھاؤ
تو انسانیت کا اٹھاؤ،
اگر مقابلہ ہو
تو عدل کے دائرے میں رہو۔”
مائیں
انتقام نہیں بوئیں گی
وہ غیرت بوئیں گی
وہ نفرت نہیں پلائیں گی
وہ آزادی کا شعور پلائیں گی
کیونکہ
اسلامی امانت
نفرت سے نہیں،
کردار سے منتقل ہوتی ہے۔
اور جب
نسلیں
یوں سینوں میں امانت لے کر اٹھتی ہیں،
تو کوئی صہیونی طاقت
انہیں جھکا نہیں سکتی۔
یہ عہد
شعلوں کا نہیں،
مشعلوں کا ہے ۔
اور مشعل
ماؤں کے ہاتھ میں ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔