Nida e Naseem

Date: 25/05/2026 7 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

الفاظ واپس لینا کافی نہیں

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

سیاسی زبان کا زوال
نام نہاد سیاست داں سنجے نشاد کی فحش کلامی ۔
الفاظ واپس لینا کافی نہیں
احتجاج جاری رہے گا جب تک معافی نہیں
عوامی قہر اور غیض و غضب سے پہلے سر عام معافی مانگی جاٸے اور بہن ڈاکٹر نصرت پروین کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ عوامی محفل میں تقرر نامہ اعزاز کیا جاٸے ۔

یوپی منسٹر سنجے نشاد کی خواتین پر کی گٸی فحش کلامی کے سبب ہندوستان بھر میں احتجاجی مظاہرے جوش پر ہیں ملک بھر میں لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں ، ان کے پتلے نذرأتیش کیے جارہے ہیں ۔ یہ معاملہ اب صرف ملکی نہیں رہا بیرون ممالک بھی اب نوٹس لے رہے ہیں ۔
ان کے الفاظ صرف ایک شخصی توہین نہیں، بلکہ ہمارے سماجی اقدار اور سیاسی اخلاقیات پر کاری ضرب ہے۔ کیا یہ وہ زبان ہے جسے ہم اپنے منتخب نمائندوں سے سننے کے عادی ہیں؟ کیا سیاسی اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ ہم انسانیت کے بنیادی احترام کو بھی پس پشت ڈال دیں؟

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلی کا منصب اور خاتون کی بے حرمتی 

1۔ حق عزت
ہرخاتون، چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا کوئی بھی پیشہ ور، اس کے حقِ عزت کا تحفظ ہر انسان پر فرض ہے ۔ سنجے نشاد کا یہ بیان نہ صرف ایک فرد کو نشانہ بناتا ہے، بلکہ تمام خواتین کی عزت کو مجروح کرتا ہے۔

2. سیاسی ذمہ داری
منتخب نمائندے کو عوام کے سامنے اپنے الفاظ کا حساب دینا چاہیے۔ کیا سنجے نشاد نے اپنے منصب کی ذمہ داری کو بھلا دیا ہے؟ کیا وہ اپنے بیان کے عواقب سے آگاہ نہیں تھے؟

3. قانونی پہلو
اگر کسی بھی فرد کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جائیں تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق موجود ہے۔ کیا سنجے نشاد کو اس قانون سے مستثنیٰ سمجھا جائے گا، یا وہ بھی عام قانون کے دائرے میں آئیں گے؟

4. سماجی اثرات
ایسے بیانات نہ صرف عوام میں بداعتمادی پیدا کرتے ہیں، بلکہ نسل در نسل زبان کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ کیا ہم ایسی سیاسی گفتگو کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جو نفرت اور توہین کو فروغ دے؟

سوال یہ ہےکہ
کیا سنجے نشاط اپنے الفاظ پر معافی مانگیں گے؟ کیا ہم اس بات کی امید رکھ سکتے ہیں کہ آئندہ سیاسی اختلافات میں عزت اور اخلاق کا دامن نہ چھوٹے؟

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سنجے نشاد فوری طور پر عوامی معافی مانیں اور ایسے الفاظ استعمال کرنے سے باز رہیں جو ہمارے معاشرے کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچائیں۔ سیاسی گفتگو میں سنجیدگی اور احترام ہونا چاہیے، نہ کہ فحش کلامی۔

اوپر تک سکرول کریں۔