Nida e Naseem

Date: 25/05/2026 7 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ، آل انڈیا علما بورڈ تلنگانہ کی ایجوکیشن ونگ کی صدر مقرر

تعلیمی شعبوں اور ادبی حلقوں میں معروف شخصیت ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کو آل انڈیا علما بورڈ (AIUB) کی تلنگانہ ایجوکیشن ونگ کی صدر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرر بورڈ کی مرکزی باڈی کی جانب سے کی گئی طویل مشاورت، درخواستوں اور انٹرویوز کے عمل کے بعد عمل میں آیا۔آل انڈیا علما بورڈ کے قومی صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی کے دستخط سے جاری اعلامیہ میں ڈاکٹر نسیم سلطانہ کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی قیادت میں تلنگانہ میں تعلیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت اور استحکام حاصل ہوگا۔ ان کا تقرر ابتدائی طور پر ریفرنس جانچ کی تکمیل سے مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ویمنس یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں کمپیوٹر سیکشن کا افتتاح

بورڈ سے جاری اعلامیہ  میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرسیدہ نسیم سلطانہ سے توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور لگن کے ساتھ انجام دیں گی، اور ان کی قیادت تنظیم کے تعلیمی اہداف و اقدار کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ ایجوکیشن ونگ کی قومی صدر پرنسپل شبانہ خان نے بھی ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کے تقرر کی توثیق کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور ان کے علمی کارناموں اور تعلیمی خدمت کے جذبے کو سراہا۔

نئے تقرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا،ہم ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کا بطور نئی عہدیدار خیرمقدم کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی خدمات علما بورڈ کے تعلیمی مشن کو نئی جہت فراہم کریں گی۔واضح رہے کہ آل انڈیا علما بورڈ، جس کا صدر دفتر نئی دہلی میں واقع ہے، ملک بھر میں تعلیم، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی خدمت کے فروغ میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ کی قیادت میں تلنگانہ میں تعلیمی اصلاحات اور بااختیار بنانے کے اقدامات میں نئی روح پیدا ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ تعلیمی میدانوں اور سماجی کاموں میں ایک معروف چہرہ ہے جنکی سرپرستی میں شہر حیدرآباد کی مختلف جامعات اور اداروں میں قومی و بین الاقوامی سمینارزکے علاوہ بیسوں پروگرامس منعقد ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں شہروں کے درجنوں اسکولس میں اردو زبان کو لازمی بنانے کے اقدامات ہوچکے ہیں ، جس کی وجہ کئی اسکولس میں نہ صرف اردو کی تعلیم کا آغاز ہوا بلکہ اردو داں طبقہ کےلئے نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

اوپر تک سکرول کریں۔