Nida e Naseem

Date: 20/04/2026 1 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

وہ کون ؟  تعلیم کے کفن میں لپٹی خودی

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

وہ کون؟
وہ کوئی جسم نہیں—
وہ مردہ خودی ہے۔
ایک سڑی ہوئی لاش،
جس پر علم کا کفن ہے،
اور عقل کی آنکھیں

یہ بھی پڑھیں: اسٹیج کے دلہے: یہ نظم عالی جناب عزت مآب پروفیسر ایس اے شکور ۔ دائرت المعارف کی نذر ہے

بند پڑی ہیں۔
افسوس!
لاش کہاں؟
نہ قبر میں،
نہ مقتل میں—
وہ
نظامِ تعلیم کے
مرکز میں پڑی ہے۔
وہ علم
جس سے عشق چھین لیا گیا،
وہ عقل
جسے خوف نے پال لیا،
وہ فہم
جس نے ضمیر سے
طلاق لے لی۔
یہی ہے وہ تعفن
جو ہمدردی کے نام پر
راستہ پاتا ہے،
اور اہلیت کے خون سے
سیڑھیاں چڑھتا ہے۔
جتنا منصب بلند،
اتنی ہی خودی پست—
یہ وہ صعود ہے
جو دراصل
زیرِ زمیں اترنے کا
نام ہے۔
وہ کون؟
وہ جو نور کا دعویٰ کرے
مگر
اس کے باطن میں
ابلیس کی حکمت ہو۔
نام “نوری”،
کام اندھیرا—
یہی تو اقبال کا
سب سے بڑا فریب تھا
کہ
شیطان بھی
علم کی زبان بولتا ہے۔
اس کا دل
ایمان سے خالی،
ضمیر مفلس،
روح بے وزن—
سرتاپا
ایک ایسی لاش
جس کا تعفن
فطرت نے بھی
قبول نہ کیا۔
چیل، گدھ، کوّے—
یہ بھی جان گئے
کہ
یہ مردار نہیں،
یہ
نسلوں کو سڑانے والی
سوچ ہے۔
اگر یہ گندگی
ہماری رگوں میں اتر جائے
تو
قومیں تاریخ نہیں،
بدبو چھوڑتی ہیں۔
تب
ہم نے نگاہ اٹھائی—
نہ نظام کی طرف،
نہ منصب کی طرف—
بلکہ
اُس رب کی طرف
جو خودی کو
کن فیکون سے
زندہ کرتا ہے۔
اے اللہ!
ہمیں
وہ شاہیں عطا کر
جس کا رزق
غلامی نہیں،
وہ عقاب دے
جس کا جگر
خوف سے خالی ہو۔
کہ
جو تعلیم
شاہین نہ پیدا کرے،
وہ علم نہیں—
ابلیس کی تدبیر
عمرو کی زنبیل ہے

اوپر تک سکرول کریں۔