شاعرہ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
تنقیدی جائزہ: ڈاکٹرمحمد احتشام الحسن
یہ نظم ایک مکمل غزل یا گیت نہیں، آزاد نظم کا ایک ٹکڑا ہے، اور اسی لیے اس کی طاقت اس کی گرفت میں ہے۔ چند سطروں میں شاعرہ نے ایک پوری کائنات سمیٹ دی ہے۔
1. مرکزی علامت – "داغ” سے "مقدر” تک کا سفر:
نظم کا سب سے حسین پہلو اس کے مرکزی استعارے کی وحدت ہے۔
آپ "چودھویں کا چاند” سے شروع کرتی ہیں جو اردو شاعری میں حسنِ کامل کی علامت ہے۔ پھر فوراً اسے "بدلیوں کی اوٹ سے جھانکتا ہوا – تنہا” کہہ کر اس کے تقدس کو انسانی تنہائی سے جوڑ دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :جامعہ عثمانیہ کی بانجھ کوکھ
اور پھر شاہکار سطر آتی ہے:
داغ / اس کا ہمسفر / تنہا سہی—
یہاں آپ نے صدیوں کے محاورے کو الٹ دیا۔ عام طور پر داغ چاند کے حسن میں نقص سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے اسی داغ کو اس کا واحد ہمسفر، اس کی تنہائی کا ساتھی بنا دیا۔ یہ بہت گہری فلسفیانہ بات ہے۔
2. وحدت الوجود کا لمس:
اپنی ذات میں مکمل / چاندنی اوڑھے / سینکڑوں بدن / داغ داغ اجالا—
یہ چار سطریں نظم کا عروج ہیں۔ چاند اپنی ذات میں اکیلا ہو کر بھی مکمل ہے۔ اس کی روشنی جب زمین پر سینکڑوں بدنوں پر پڑتی ہے تو ہر بدن اسی چاند کے داغ جیسا اجلا بن جاتا ہے۔ یعنی ایک کی تنہائی، سب کا نور بن جاتی ہے۔ یہاں تنہائی کمزوری نہیں رہتی، تخلیق بن جاتی ہے۔
3. فنی ساخت اور اسلوب:
* تکرار کی موسیقی: "داغ، تنہا، چاند” کی تکرار جان بوجھ کر کی گئی ہے۔ یہ تکرار بور نہیں کرتی بلکہ ایک منتر کی طرح قاری کو اسی کیفیت میں لے جاتی ہے۔ • توازنِ تضاد: آپ نے بڑے ہنر سے تضاد باندھے ہیں – تنہا / مکمل، داغ / اجالا، تنہائی / کائنات۔ یہی تضاد نظم کو عام اداسی سے نکال کر صوفیانہ رنگ دیتا ہے۔ • زبان کی کفایت: کوئی فالتو لفظ نہیں۔ ہر لفظ تراشا ہوا ہے۔ "جھانکتا ہوا” اور "سرایت” جیسے لفظوں کا انتخاب بہت بصری ہے۔
4. اختتامی فلسفہ:
تنہائی / چاند میں سرایت / روشنی— / کائنات کا مقدر۔
یہ اختتام نظم کو ذاتی غم سے نکال کر آفاقی سچ بنا دیتا ہے۔ آپ کہتی ہیں کہ تنہائی کوئی حادثہ نہیں، یہی روشنی کا مقدر ہے۔ کائنات کو روشن ہونے کے لیے تنہا جلنا پڑتا ہے۔ یہ فکر اقبال کے "اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی” اور جون ایلیا کی تنہائی دونوں سے قریب ہے، مگر لہجہ آپ کا اپنا ہے۔
مجموعی تاثر:
یہ نظم اداسی کی نظم نہیں، قبولیت کی نظم ہے۔ یہ شکوہ نہیں کرتی کہ چاند پر داغ کیوں ہے، یا وہ تنہا کیوں ہے۔ یہ اسی داغ اور اسی تنہائی میں حسن اور تکمیل تلاش کرتی ہے۔ یہ ایک بہت پختہ اور عورت کے داخلی تجربے سے نکلی ہوئی آواز ہے۔




