Nida e Naseem

Date: 23/10/2026 11 جمادی الاول 1448 ھ
آج کا شعر: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا (غالب )

گدڑی کا لال: نور خاں

مولوی عبدالحق کا خاکہ ’’گدڑی کا لال‘‘ ایک عام سپاہی نور خاں کی شخصیت اور کردار کا خاکہ ہے۔ مصنف ابتدا ہی میں واضح کرتے ہیں کہ عموماً لوگ بادشاہوں، امیروں اور مشہور لوگوں کے حالات لکھتے ہیں، لیکن غریب اور عام انسانوں کی زندگی میں بھی ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو دوسروں کے لیے سبق بن سکتی ہیں۔ انسان کا مطالعہ صرف بڑے لوگوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

نور خاں حیدرآباد کی کنٹنجنٹ فوج کے اول رسالے میں سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ اس زمانے میں کنٹنجنٹ میں داخلہ آسان نہیں تھا اور عموماً شریف خاندانوں کے لوگوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ نور خاں اپنی خودداری، سچائی، فرض شناسی اور بہادری کے لیے مشہور تھے۔ وہ ڈرل انسٹرکٹر تھے اور نئے انگریز سپاہیوں کو فوجی مشقیں سکھاتے تھے۔ انہیں گھوڑ سواری کا بھی غیر معمولی شوق اور مہارت تھی۔ وہ مشکل اور سرکش گھوڑوں کو سدھانے میں ماہر تھے اور گھوڑ دوڑ میں بھی اکثر کامیاب ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:خاکہ نگاری: تعریف،مفہوم اور روایت

نور خاں کی سب سے نمایاں خوبی خودداری تھی۔ ایک مرتبہ ان کے کمانڈنگ افسر نے غصے میں انہیں ایک توہین آمیز لفظ کہا۔ نور خاں نے اس بات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا بلکہ باقاعدہ شکایت کی۔ معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچا اور بالآخر کمانڈنگ افسر کو نور خاں سے معافی مانگنی پڑی۔ اس واقعے کے نتیجے میں نور خاں کی ترقی کے امکانات محدود ہوگئے، لیکن انہوں نے اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

ان کے بہت سے انگریز افسر ان کی دیانت داری اور قابلیت کے معترف تھے۔ خاص طور پر کرنل فرن ٹین کو نور خاں پر بہت اعتماد تھا۔ کرنل نے ملازمت چھوڑتے وقت ہزاروں روپے کا اپنا سامان نور خاں کے سپرد کیا۔ بعض دوسرے افسر چاہتے تھے کہ یہ سامان انہیں دے دیا جائے، لیکن نور خاں نے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامان ان کے پاس امانت ہے اور وہ مالک کی اجازت کے بغیر اس میں سے ایک چیز بھی کسی کو نہیں دے سکتے۔ بعد میں انہوں نے سامان کی مکمل فہرست بنوائی، اسے فروخت کیا اور رقم کرنل کو بھیج دی۔

ایک اور موقع پر ایک افسر نے نور خاں کو انعام کے طور پر سونے کی گھڑی، ایک عمدہ بندوق اور پانچ سو روپے دینے چاہے۔ نور خاں نے زیادہ تر چیزیں لینے سے انکار کردیا اور صرف بندوق قبول کی۔ اس واقعے سے ان کی بے لوثی اور اصول پسندی ظاہر ہوتی ہے۔

کرنل اسٹوارٹ بھی نور خاں کی قدر کرتے تھے۔ نور خاں خوشامد اور غلامانہ اطاعت پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک موقع پر ایک انگریز افسر نے انہیں اپنا گھوڑا پکڑنے کا حکم دیا تو نور خاں نے جواب دیا کہ وہ سائیس نہیں ہیں۔ اس واقعے سے بھی ان کی خودداری ظاہر ہوتی ہے۔ بعد میں نور خاں نے فوجی ملازمت سے سبک دوش ہونے کے لیے وظیفہ حاصل کیا۔

فوج سے سبک دوش ہونے کے بعد نور خاں اپنے وطن دولت آباد میں رہنا چاہتے تھے۔ نواب مقتدر جنگ بہادر کی سفارش سے وہ قلعہ دولت آباد میں جمعدار مقرر ہوئے۔ بعد میں نواب بشیر نواز جنگ بھی ان پر مہربان رہے۔

اسی زمانے میں لارڈ کرزن دولت آباد آئے۔ نور خاں نے فوجی قواعد کے مطابق انہیں سلامی دی۔ بعد میں جب لارڈ کرزن قلعے کے بالائی حصے میں سگریٹ پینے لگے تو نور خاں نے انہیں یاد دلایا کہ وہاں سگریٹ پینے کی اجازت نہیں۔ لارڈ کرزن نے فوراً سگریٹ پھینک دیا۔ اس واقعے سے نور خاں کی قواعد کی پابندی اور فرض شناسی نمایاں ہوتی ہے۔

بعد میں ریاست کے مالی حالات خراب ہونے پر مسٹر واکر نے مالی اصلاحات شروع کیں اور نور خاں کی ملازمت بھی ختم ہوگئی۔ انہوں نے دولت آباد میں اپنی زمین پر باغ لگانا شروع کردیا۔ ایک مرتبہ مسٹر واکر ان کے باغ میں آئے اور انہیں گھاس کھودتے دیکھا۔ نور خاں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ان کی وجہ سے اب انہیں گھاس کھودنے کی نوبت آگئی ہے۔

نور خاں کی زندگی میں ڈاکٹر سید سراج الحسن کا کردار بھی اہم ہے۔ ڈاکٹر صاحب انسانوں کو پرکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے نور خاں کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ان کی مدد کی۔ بعد میں نور خاں کو باغ کی نگرانی کا کام ملا اور ان کے لیے ماہانہ الاؤنس بھی مقرر ہوا۔

نور خاں کی سچائی کا ایک بہت اہم واقعہ گھوڑے کے متعلق ہے۔ نواب برزور جنگ اپنا ایک گھوڑا فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر سراج الحسن نے گھوڑا خریدنے سے پہلے نور خاں سے اس کے بارے میں رائے لینے کو کہا۔ نور خاں نے گھوڑے کو دیکھا اور اس کے عیوب صاف صاف بتا دیے۔ ڈاکٹر صاحب نے گھوڑا خریدنے کا ارادہ ترک کردیا۔ اس پر صوبے دار ناراض ہوگئے اور نور خاں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن نور خاں نے سچائی سے منہ نہیں موڑا۔

بعد میں ڈاکٹر سراج الحسن کی سفارش سے نور خاں کو مولوی عبدالحق کے دفتر میں عارضی طور پر محرر کی خدمت ملی۔ مولوی عبدالحق خود بھی نور خاں سے متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق نور خاں عام مدرسوں اور محرروں سے زیادہ کارآمد تھے۔ بعد میں نور خاں کو ایک بڑے باغ کے عملے میں مناسب جگہ مل گئی اور وہ اپنی زندگی کے آخری زمانے تک اسی کام سے وابستہ رہے۔

نور خاں کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی سچائی، محنت، دیانت داری، خودداری اور فرض شناسی تھا۔ وہ دن ہو یا رات، کام کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ دولت آباد سے اکثر پیدل آتے جاتے تھے۔ جو کام ان کے سپرد کیا جاتا، اسے خوشی اور پوری ذمہ داری سے انجام دیتے۔

ان کی ایک دلچسپ عادت مٹھائی کھانے کی تھی۔ انہیں میٹھا بہت پسند تھا اور وہ اکثر جیب میں گڑ رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر میٹھا دستیاب ہو تو نمکین کیوں کھایا جائے۔ دعوتوں میں بھی وہ سب سے پہلے میٹھے پر ہاتھ ڈالتے تھے۔ یہ عادت مولوی عبدالحق نے بڑے دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کی ہے۔

نور خاں نہایت زندہ دل انسان تھے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ وہ بچوں کے ساتھ بچے، جوانوں کے ساتھ جوان اور بوڑھوں کے ساتھ بوڑھے بن جاتے تھے۔ غم اور پریشانی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے تھے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔

ان کی دیانت داری کا ایک اور خوب صورت نمونہ ڈاکٹر سراج الحسن کے مالی معاملات میں نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب جب اورنگ آباد آتے تو اپنا روپیہ پیسہ نور خاں کے حوالے کردیتے تھے۔ نور خاں ہر خرچ کا مکمل حساب رکھتے اور جب تک حساب ایک ایک پیسے تک درست نہ ہوجاتا، انہیں اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ اگر بعد میں کوئی رقم بچی ہوئی معلوم ہوتی تو وہ واپس بھیج دیتے اور اگر ان کے اپنے کچھ پیسے خرچ ہوئے ہوتے تو ان کا بھی حساب پیش کرتے۔

مولوی عبدالحق آخر میں نور خاں کی پوری شخصیت کو چند بنیادی خوبیوں میں سمیٹ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نور خاں بات کے کھرے، حساب کے کھرے اور دل کے کھرے انسان تھے۔ وہ مخلص، ہمدرد، وفادار، محنتی اور خوش مزاج تھے۔ ان کی زندگی ذاتی مفاد کے بجائے خدمت، دیانت اور ذمہ داری سے عبارت تھی۔

اہم نام

اس خاکے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نام خاص طور پر یاد رکھنے چاہییں:

  1. مولوی عبدالحق — خاکہ نگار اور نور خاں کے اوصاف کے راوی۔
  2. نور خاں — خاکے کا مرکزی کردار، ایک دیانت دار، خوددار اور محنتی سپاہی۔
  3. کرنل فرن ٹین — نور خاں پر غیر معمولی اعتماد کرنے والے انگریز افسر۔
  4. کرنل اسٹوارٹ — نور خاں کے ہمدرد افسر، جنہوں نے ان کی مدد کی۔
  5. لارڈ کرزن — دولت آباد آنے والے وائسرائے، جن کے ساتھ نور خاں کا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔
  6. مسٹر واکر — ریاست کے مالی معاملات میں اصلاحات کرنے والے افسر۔
  7. ڈاکٹر سید سراج الحسن — مردم شناس اور نور خاں کی صلاحیتوں کو پہچاننے والے افسر۔
  8. نواب مقتدر جنگ بہادر — جن کی سفارش سے نور خاں کو قلعہ دولت آباد میں ملازمت ملی۔
  9. نواب بشیر نواز جنگ — اورنگ آباد کے صوبے دار، جو نور خاں پر مہربان تھے۔
  10. نواب برزور جنگ — جن کے گھوڑے کے واقعے سے نور خاں کی سچائی نمایاں ہوتی ہے۔

خاکے کا مرکزی خیال

’’گدڑی کا لال‘‘کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عظمت صرف دولت، عہدے، شہرت یا خاندان کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ ایک عام اور غریب انسان بھی اپنی سچائی، دیانت، محنت، خودداری، فرض شناسی اور انسان دوستی کے ذریعے غیر معمولی شخصیت بن سکتا ہے۔

مولوی عبدالحق نے نور خاں کی زندگی کے مختلف واقعات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ قومیں صرف بڑے عہدوں پر فائز لوگوں سے نہیں بلکہ ایسے بے لوث، دیانت دار اور باکردار انسانوں سے بنتی ہیں۔ اسی لیے خاکے کا اختتامی تاثر نور خاں کی شخصیت کو ایک عام سپاہی سے بلند کرکے ایک مثالی انسان کے طور پر پیش کرتا ہے۔

مطالعے کا اہم نکتہ: اس خاکے میں مولوی عبدالحق نے کسی مشہور شخصیت کے بجائے ایک عام سپاہی کو موضوع بنایا ہے۔ یہی بات اسے اردو خاکہ نگاری کی روایت میں خاص اہمیت دیتی ہے۔ مولوی عبدالحق کے خاکوں میں عام انسان کی پوشیدہ خوبیوں کو سامنے لانے کا رجحان نمایاں ہے۔

1 1 vote
Article Rating

Leave a Reply

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
اوپر تک سکرول کریں۔
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x