چارمینار کے تاریخی مقام سے اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کے خلاف ایک بڑے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ احتجاج ریلی مختلف تنظمیوں اور جہد کاروں کی زیرِسرپرستی منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔احتجاج میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ))، انڈین نیشنل کانگریس اور مجلس بچاؤ تحریک کے کارکنان کے علاوہ متعدد سماجی کارکنان ، اساتذہ ،طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد شامل ہوئی۔ شرکاء نے عالمی امن کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایک وداعی تقریب ایسی بھی
مظاہرین نے چارمینار سے نمائش میدان، نامپلی) تک ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ بندی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین کی جانب سے "روک دو، روک دو، جنگ کو روک دو” اور "ون ورلڈ، ون وائس: اسٹاپ دی وار” جیسے نعرے بلند کیے گئے، جو عالمی امن کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔
احتجاج میں شریک افراد نے بلا لحاظ مذہب و ملت یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انسانی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں اور مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سماجی جہد کار لبنیٰ ثروت نے امریکہ اور اسرائیل کی ناپاک سازشوں کا پردہ فاش کیا اور اس جنگ کی وجہ سے عوام کو ہونے والے مسائل کی سمت توجہ مبذول کروائی ۔
ریلی کے دوران ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا: "ہم ہندوستانی دامے، درمے، قدمے، سخنے تمہارے ساتھ ہیں”، جس سے ایران کے عوام کے ساتھ اخلاقی اور انسانی ہمدردی کا پیغام دیا گیا۔
مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جنگی ماحول کو ختم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اقدامات کرے۔ احتجاج پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاہم شرکاء نے واضح کیا کہ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو وہ مستقبل میں مزید احتجاج کریں گے۔




