ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
ماہر تعلیم و سماجی جہدکار
حیدرآباد دکن
"حنوط شدہ لاشیں "
آزاد نظم
یہ وہ چہرے ہیں
جن کی آنکھوں میں
آئینہ نہیں،
صرف روشنیاں جھلملاتی ہیں
اور ہر مسکراہٹ
پچھلے خون کی چپ ہے۔
ہونٹوں پر مسکراہٹیں،
جیبوں میں فیصلے
اور انگلیوں پر
ضمیر کے نشانات نہیں۔
یہ تالیاں گنتے ہیں،
سانسیں نہیں،
یہ روشنیوں میں نہاتے ہیں
سایوں کا حساب نہیں رکھتے۔
کبھی لفظوں کو پرچم بنا کر لہراتے ہیں،
کبھی وعدوں کو ہار کی طرح پہنا دیتے ہیں،
اور پھر
خود اپنی تصویروں کو سلام کرتے ہیں۔
ان کے جسم گرم ہیں،
مگر اندر
سب کچھ محفوظ کیا جا چکا ہے:
احساس، ضمیر، انسانیت… سب حنوط ہو چکے ہیں۔
یہ وہ لاشیں ہیں
جنہیں خوشبو اور ملمّع میں لپیٹ کر
زندہ دکھایا گیا ہے۔
جب یہ کرسی پر بیٹھیں،
قانون سہم جاتا ہے؛
جب یہ مائیک پکڑیں،
سچ ہلکنے لگتا ہے۔
اور جب یہ مسکراتے ہیں،
کہیں دور
کوئی بچہ بھوکا سو جاتا ہے،
شہر تالیاں بجاتا رہتا ہے
سمجھے بغیر
کہ اس کی رگوں میں
اب سردی اتر رہی ہے۔
یہ خون نہیں پیتے،
یہ خواب چوس لیتے ہیں،
خاموشی سے،
مہذب طریقے سے،
قانونی انداز میں…
اور پھر، ایک لمحے کے لیے،
قاری خود بھی دیکھتا ہے
کیا اس کی رگوں میں بھی
یہ سردی نہ اتر گئی ہو۔




