دکن کی سرزمین اردو زبان و ادب کی ایک درخشاں اور تاریخی روایت کی حامل رہی ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں 1347ء میں بہمنی خاندان نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا اور اردو زبان کو سرکاری و علمی سرپرستی حاصل ہوئی۔ بہمنی حکمرانوں کے بعد قطب شاہی (1508-1687) اور پھر آصف جاہی سلاطین (1671-1948) نے دکن پر حکومت کی اور اردو زبان کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے علمی اظہار کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ آصف جاہی دور میں ساتویں فرمان روا نواب میر عثمان علی خاں کا عہد علم و ادب کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ‘‘سلطان العلوم’’ نواب میر عثمان علی خاں نے سائنسی علوم، جدید تعلیم اور اردو زبان کو مرکزیت عطا کی۔
نواب میر عثمان علی خاں کے عہد کے دو عظیم الشان کارنامے اردو کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ پہلا کام دارالترجمہ کا قیام اور دوسرا کارنامہ جامعہ عثمانیہ کو حقیقت کا روپ دینا ۔ اس سے قبل حیدرآباد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئی ایسی یونی ورسٹی موجود نہیں تھی جہاں اردو کو ذریعۂ تعلیم بنایا گیا ہو۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دہلی کالج میں اردو محض ابتدائی سطح تک محدود تھی۔ اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے اہلِ حیدرآباد نے اردو ذریعۂ تعلیم کی ایک جامع یونیورسٹی کے قیام کی تحریک شروع کی، جس کی ابتدائی کوشش 1873ء میں نواب میر محبوب علی خاں کے عہد میں کی گئی، تاہم وہ بارآور نہ ہو سکی۔
نواب میر عثمان علی خاں کی تخت نشینی کے بعد یہ تحریک ایک منظم شکل اختیار کر گئی۔ دارالعلوم کے طلبہ، حیدرآباد ایجوکیشنل سوسائٹی، انجمن ترقی اردو (اورنگ آباد)، مجلس اشاعتِ علوم اور دیگر اداروں نے اس تحریک کو تقویت دی۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اردو کی وسعت اور اس کے مستقبل پر زور دیتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ ہندوستان کی تعلیمی ترقی کا انحصار اردو زبان کی ترقی سے وابستہ ہے۔ سر اکبر حیدری اور سر راس مسعود کی بھرپور تائید سے یہ تحریک دکن بھر میں پھیل گئی۔
1917ء میں سر اکبر حیدری کی جانب سے موجودہ نظامِ تعلیم کے نقائص پر مشتمل عرضداشت نواب میر عثمان علی خاں کی خدمت میں پیش کی گئی، جس میں ایک ایسی جدید یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا جو قدیم و جدید علوم کے امتزاج کے ساتھ اردو کو ذریعۂ تعلیم بنائے۔ 26 اپریل 1917ء کو نواب میر عثمان علی خاں نے اس عرضداشت کو منظور کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ کے قیام کا فرمان جاری کیا اور اردو کو اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ قرار دیا۔
جامعہ عثمانیہ کے قیام سے قبل اس امر کو ضروری سمجھا گیا کہ سائنس، طب، انجینئرنگ اور دیگر جدید علوم کی معیاری کتابیں اردو میں دستیاب ہوں۔ اسی مقصد کے تحت 1917ء میں دارالترجمہ (سررشتۂ تالیف و ترجمہ) قائم کیا گیا، تاکہ جامعہ عثمانیہ کے طلبہ کے لیے اعلیٰ درجے کی درسی کتب اردو میں فراہم کی جا سکیں۔ عبدالقادر سروری کے مطابق شاہی فرمان کے تحت 6 ستمبر 1917ء کو دارالترجمہ باقاعدہ قائم ہوا۔
دارالترجمہ اردو زبان میں علوم و فنون کی منتقلی کی پہلی منظم اور مستقل کوشش تھی۔ ابتدا میں مغربی زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا، بعد ازاں عربی، فارسی اور مشرقی علوم بھی اس دائرے میں شامل ہو گئے۔ دارالترجمہ کے لیے ایسے مترجمین مقرر کیے گئے جو انگریزی، عربی، فارسی اور اردو پر مکمل عبور رکھتے تھے اور اپنے اپنے فن کے ماہر تھے۔
دارالترجمہ میں ترجمہ کے کام کو منظم بنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں، جن میں چار کمیٹیاں زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔
- نصاب کمیٹی، جس کے چیئرمین سر اکبر حیدری تھے، نصاب کا تعین کرتی اور ترجمہ کے لیے اصل کتابوں کا انتخاب کرتی تھی۔
- انتظامی کمیٹی، جس کے صدر حبیب الرحمن خاں شیروانی تھے، مترجمین کے درمیان پیدا ہونے والے علمی اختلافات کو حل کرتی تھی۔
- انجینئرنگ کمیٹی انجینئرنگ کی کتابوں کے انتخاب اور ترجمے کی نگرانی کرتی تھی۔
- ان سب میں سب سے اہم وضعِ اصطلاحات کمیٹی تھی، جس کا مقصد اردو میں سائنسی اور فنی اصطلاحات وضع کرنا تھا۔
اصطلاح سازی دارالترجمہ کا سب سے پیچیدہ مسئلہ تھا۔ اس ضمن میں دو گروہوں کے درمیان بحث ہوئی۔ ایک گروہ عربی سے اصطلاحات اخذ کرنے کا حامی تھا، جبکہ دوسرا گروہ اردو کے فطری عناصر (عربی، فارسی، ہندی) سے استفادہ پر زور دیتا تھا۔ بالآخر دوسرے گروہ کی رائے کو قبول کیا گیا اور سات اصول مرتب کیے گئے، جن میں زبان کی فطری ساخت، اختصار، معنوی صحت اور رائج اصطلاحات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
دارالترجمہ سے وابستہ مترجمین میں مولوی عبدالحق، وحیدالدین سلیم، مرزا ہادی رسوا، نظم طباطبائی، قاضی تلمذ حسین، چودھری برکت علی، سید ہاشمی فرید آبادی، حکیم کبیر الدین اور دیگر ممتاز اہلِ علم شامل تھے۔ ان حضرات نے نہایت محنت، دیانت اور علمی شعور کے ساتھ سادہ اور بامحاورہ اردو میں سائنسی اور فنی کتابوں کا ترجمہ کیا۔
1917ء سے 1951ء تک دارالترجمہ نے مختلف علوم و فنون پر مشتمل 359 کتابیں شائع کیں، جن میں 73 سائنس سے متعلق تھیں۔ ان کتابوں میں فلسفہ، تاریخ، عمرانیات، سیاسیات، معاشیات، قانون، ریاضی، سائنس، انجینئرنگ اور طب جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان تراجم نے اردو کو ایک مکمل علمی زبان بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
بدقسمتی سے 1948ء کے بعد سیاسی تبدیلیوں، آتش زدگی اور 1950ء میں اردو کی جگہ انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے فیصلے کے باعث دارالترجمہ کی افادیت ختم ہو گئی۔ اردو ذریعۂ تعلیم کی وہ عظیم روایت، جس نے جامعہ عثمانیہ کو ایک منفرد مقام عطا کیا تھا، زوال کا شکار ہو گئی۔
بحیثیت مجموعی دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ نے اردو زبان کو سائنسی اور فکری اظہار کے قابل بنا کر مشرق و مغرب کے درمیان علمی فاصلے کو کم کیا۔ آج بھی اس تجربے کی اہمیت مسلم ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید علوم و ٹیکنالوجی کی اردو میں منتقلی کے لیے اسی طرز کے ادارے دوبارہ قائم کیے جائیں۔




