
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ۔جے
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو،
مظہر العلوم کالج (خود مختار) ۔چنئی
کوئی بھی آفاقی شاعر خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتا ہوزماں و مکاں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ میں اپنا زمانہ ہی نہیں آنے والا زمانہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے ا س کے کلام میں صرف ایک عہد نہیں ہمہ زمانی معنویت ہوتی ہے۔ میرؔ و غالبؔ ایسے ہی شاعر ہیں اور غالبؔ تو ایک ایسا نابغہ لے کر پیدا ہوئے تھے جن کی آنکھ وہاں تک پہنچ رہی تھی جہاں تک کسی اور کی آنکھکاپہنچناآساننہ تھا۔ غالبؔ نے کہا تو یہ تھا :
ہے کہاں تمنا کا دوسراقدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
لیکن ان کی شاعری میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے اس شعر کے مفہوم پر نظر کیجئے ۔
یہ بھی پڑھیں :سر سید: ہندوستانی مسلمانوں کے محسنِ اعظم
’’دشت یہاں وسعت کے باوجودتنگی کا مفہوم ادا کررہا ہے اور تمنا اسرار وجود کو حل کرنے یعنی خدا اور کائنات کو سمجھنے کی تمنا ہے ۔ اس تمنا میں ہم محو سفر ہیں اور اس سفر میں پورا دشت امکاں ہمارا صرف ایک نقش قدم ہے۔ اصلاً یہ شعر علم اور لاعلمی کا مرکب ہے یعنی ہمارا سارا علم اس کائنات تک محدود ہے اور ماورائے کائنات کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ جبکہ غالبؔ کی نگاہ اس دشتِ امکاں کے دوسرے نقشِ پا کو بھی دیکھ لیتی ہے اور غیب سے جو مضامین ان پر نازل ہورہے تھے وہ اسی دوسرے نقش پا کے الگ الگ جادوں کو روشن کررہے تھے جنھیں دیکھ کر ہمارا مبتلائے حیرت ہونا یقینی ہے۔ اسی لیے غالبؔ کے کلام کو ایک زاویے کے بجائے مختلف زاویوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
غالبؔ نے اپنے کلام کے متعلق یہ پیشن گوئی کی تھی کہ :
شہرتِشعرمبگیتیبادِ من خواہدشدن
میں عندلیبِگلشن ناآفریدہہوں
یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف پوری ہوگئی بقول پروفیسر حامد حسن قادری :
’’اردو شاعری میں ان کے کلام سے زیادہ کسی کے کلام کی قدر نہیں ہوئی۔ ’’دیوان غالبؔ‘‘ سے زیادہ کوئی دیوان نہ پڑھا گیا ، نہ سمجھا گیا، نہ چھاپاگیا۔ انیسویں صدی کا کوئی شاعر غالبؔ سے زیادہ اس قدر دانی کا حق دار نہ تھا۔‘‘
جیسا کہ ابھی کہا گیا غالبؔ کسی مخصوص وقت یا دور کے شاعر نہیں بلکہ ان کی شاعری ہر زمانے پر حاوی ہے۔ وہ نہ صرف انیسویں یا بیسویں صدی کے شاعر و قلم کار ہیں بلکہ اکیسویں صدی کے جدید دور اور مابعد جدید ذہن کے ترجمان بھی ہیں۔ انیسویں صدی غالب شناسی کا آغاز ہے۔ بیسویں صدی میں غالبؔ کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا۔ یہ غالؔب شناسی کے عروج کا زمانہ ہے جبکہ اکیسویں صدی غالب کی از سرِ نو دریافت کی صدی ہے۔ غالبیات پر کام کرنے والے کئی غالب شناسوں کو غالبؔ نے شہرت عام اور بقائے دوام بخشی ہے۔ اس اعتبار سے میں خوش نصیب ہوں کہ غالبؔ شناسی جیسے اہم موضوع پر مجھے غالب انسٹیٹیوٹ اور شعبہ اردو ، کالی کٹ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرنے کا موقعہ نصیب ہوا ہے۔
اردو ادب میں غالبؔ شناسی اب کوئی نئی بات نہیں رہی۔ غالب شناسی کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنا غالبؔ کا کلام۔ یوں تو غالب شناسی کی اس ادبی اصطلاح کو آج غالبؔفہمی کے وسیع تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعہ غالبؔ کے فن، شخصیت، سوانح اور ان کے فن سے جڑے تمام معلومات کو پڑھنے ،سمجھنے ، جاننے اور تحقیقی انداز میں کام کرنے والے تمام پہلوئوں کو غالبؔ شناسی کے دائرے میں لایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں غالبؔ کے بارے میں سوچنا، سمجھنا، لکھنا، پڑھنا ، تفہیم غالبؔ کو عام کرنا نئے پہلووں کی کھوج لگانا غاؔلب شناسی کے زمرے میں آتا ہے۔ غالب پر کیے جانے والے کام کو غالبیات کا نام دیا گیا ہے۔ بقول حفیظ صدیقی :
’’غالبیات سے مراد وہ تمام سوانحی، تشریحی اور تنقیدی مواد ہے جو مرزا غالبؔ کی شخصیت اور ان کے فکر و فن کو سمجھنے اور سمجھانے کی غرض سے وجود میں آیا۔‘‘
معروف غالبؔ شناس کالی داس گپتا رضا لکھتے ہیں :
’’غالبؔ پر گفت و شنید اور نوشت و خواند کو غالبیات کا مستقل نام دینا پڑا۔‘‘
غالبؔ کے اثرات ہمارے ادب پر اتنے وسیع اور گہرے ہیں کہ غالب ؔپر لکھنا، سوچنا، پڑھنا اور تفہیم حاصل کرنا اب ہماری ضرورت بن گئی ہے۔ یوں تو غالبؔ شناسی کی روایت کا آغاز میر تقی میرؔ کی اس رائے کو قرار دیا جاسکتا ہے جو انھوں نے غالبؔ کے ابتدائی اور کم سنی کے اشعار ملاحظہ کرنے کے بعد دی تھی۔ اس کے علاوہ غالبؔ کی زندگی میں جو تذکرے مرتب ہوئے ان تذکروں میں غالبؔ خاطر خواہ جگہ پاتے رہے ہیں۔ مگر غالبؔ شناسی کا باقائدہآغاز حالیؔ کی ’یاد گار غالبؔ‘ کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد غالبؔ شناسی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جو موجودہ اکیسویں صدی تک پھیلا ہوا ہے۔ ہر دور میں غالبؔ کو سمجھنے ، سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ماضی سے لے کر اب تک ہر غالبؔ شناس نے اپنے اپنے طور پر فکر و معانی کی نئی نئی جہات کا تعین کیا۔ جتنا غالبؔ پر لکھا گیا اس قدر اردو کے کسی دوسرے شاعر کو یہ اعزاز نصیب نہ ہوسکا۔ اس طرح اردو میں بطور خاص غالبیات کا ایک بیش بہا خزانہ جمع ہوگیا اور غالبؔ شناسی ایک فن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
یہ بات بھی صحیح ہے کہ غالبؔ پر اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب غالب ؔ پر کوئی نئی بات کہنا ناممکنات میں داخل ہے۔ بقول شمس الرحمن فاروقی :
’’غالبؔ پر کوئی نئی یا معانی خیز بات کہنا اب آسان نہیں رہا۔ اب غالب ؔ پر وہ لکھے جسے اپنی رسوائی مطلوب ہو۔‘‘
مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غالبؔ ایک ایسا سمندر ہے جو امکانات کے خزانوں سے بھرا ہے۔ یہ کھوجنے والوں کی جستجو پر منحصر ہے کہ وہ کیا تلاش کر پاتے ہیں۔ ہاں کوئی غالبؔ شناس ہو یا غاؔلب شکن وہ اس بحر کی شناوری کے بغیر کچھ پاسکنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔ غالبؔ کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کے زاویے ہر ایک کے الگ الگ ہیں۔ بقول شان الحق حقی :
’’معاصرین غالب متقدمین، متاخرین غرض جس نے بھی غالبؔ کو سمجھا اپنے اپنےزاویے سے اپنی اپنی فکر ، بصیرت اور ذہنی استعداد کے مطابق سمجھا۔ حالیؔ ،نظم طباطبائی، شوکت میرٹھی، حسرت موہانی، مولانا عبد الباریآسی، عرش ملسیانی، اثر لکھنوی، عبد الرحمنبجنوری، خورشید الاسلام، احتشام حسین، ظ انصاری، شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ سبھی نے اپنا اپنا غالبؔ دریافت کیا اور اپنے اپنے انداز سے کلام غالب ؔ پر رائے زنی اور تشریح و توضیح کی حتی الامکان کوششیں کیں۔‘‘
غالبؔ چونکہ ایک جدت پسند انسان تھے اسی لیے انھیں بنے بنائے راستوں پر چلنا پسند نہیں تھا۔ انھوں نے فکر و فلسفہ اختیار کرتے ہوئے اردو شاعری کو جلا بخشی اور نئے نئے معانی و مفاہیم کی دولت سے مالامالکردیا۔ اسی وجہ سے ناقدین نے انھیں نہ صرف اردو کا پہلا فلسی شاعر تسلیم کیا بلکہ انھیں ہر عہد میں ’’شہنشاہ غزل‘‘ تسلیم کیے جانے کا فرمان بھی جاری کردیا۔
غالبؔ سے پہلے اردو غزل صرف جذبات و احساسات کی ترجمان تھی اورگل و بلبل کی قیاس آرائیاں شعرا کا محبوب مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ غالبؔ نے فکر و فلسفہ کو غزل میں سمو کر اسے ایک نئی زندگی بخشی۔ ہر آنے والا زمانہ ان کی قدر و قیمت کا زمانہ ہے۔ ان کی شاعری میں انسان، خدا اور کائنات کی مثلث موجود ہے۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالبؔ صریرخامہنوائے سروش ہے
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
غالبؔ کی شاعری کا ایک نمایاں وصف ان کی جدت پسندی ہے۔ ندرت بیان اور اسلوب کی جدت ان کی پہچان ہے۔ انھوں نے منفرد لب و لہجہ اختیار کیا اور اپنے مختصر دیوان میں معانی و مفاہیم کا خزانہ بھر دیا اور جدت طرازی کے پردے میں اردو شاعری کو تنوع و طرف گی کی نئی نئی جہات سے اس طرح مالامال کیا کہ ہر ظرف کے ناقد و قاری کی زنبیل میں سمانے کو تیار اس صلائے عام کے ساتھ :
بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکنعیارِطبعِخریدار دیکھ کر
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسدؔ
عالم تمام حلقہ دامِخیال ہے
بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
غالب ؔ ایک خوش مزاج انسان تھے۔ شرافت ان کی رگ و پے میں بسی ہوئی تھی۔ انھوں نے زندگی کے غم اور محرومیوں کو کبھی روگ نہیں بنایا۔ شوخی و شگفتگی اور طنز و ظرافت کے رنگ ان کی شاعری اور زندگی دونوں میں نظر آتے ہیں۔ ایک سنجیدہ اور فکر انگیز خیال کو ظرافت کی چاشنی میں پیش کرنے کا ہنر وہ خوب جانتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کی شاعری کی عمارت ایستادہ ہے اور ایسی مضبوط و مستحکم کہ زندگی کی تمام فریب کاریاں بھی اس عظیم شاعر کو اپنی منزل سے نہ ہٹا سکیں۔ یہ اشعار ملاحظہ کریں :
کیوں نہ فردوس کو دوزخ میں ملالیں یارب
سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارادمِتحریر بھی تھا۔۔؟
غالبؔ کے مزاج و منہاج سے متعلق ’یاد گار غالبؔ‘ میں مولانا حالی لکھتے ہیں کہ اگر چہ غالبؔ کا مزاج خالص صوفیانہ نہیں تھا مگر ان کو تصوف سے خاص نسبت تھی وہ معرفت کا بھی گہرا شعور رکھتے تھے۔ لیکن ان کی شاعری میں تصوف کی جلوہ نمائی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب آپ نے شاعری میں صوفیانہ انداز اختیار کیا تو عشق اور خدا کی ذات کے بیان کو کمال کی بلندیوں تک پہنچادیا۔
مثلا یہ شعر دیکھئے :
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
غالبؔ چونکہ وحدت الوجود کے قائل بھی تھے اس لیے ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ خدا کی ذات ہی کے مظہر ہیں۔ انسان، حیوان، جن، فرشتے اور بحر و بر سب خدا کی ذات کا پرتو ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
غالبؔ خدا کے ایک ہونے پر اپنے یقین کو بھی صوفیانہ انداز میں بیان کرتے ہیں اور اس خوبی سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی کافر بھی سنے تو پکار اٹھے کہ ہاں خدا ایک ہے۔
اسے کون دیکھسکتا ہے یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
دل ہر قطرہ ہے ساز ِ اناالبحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
شاعری میں سادگی اور سہل ممتنع کی اصطلاح کو برتنا آسان کام نہیں۔ مختصر الفاظ میں گہری اور بھرپور بات کہنا، ایسی بات کہنا جو بظاہر سادی سی ہو لیکن غور کرنے پر وسعت نظر آئے، اسے شعری اصطلاح میں سہل ممتنع کہا جاتا ہے۔میرتقی میرؔ کو سہل ممتنع کا بے تاج بادشاہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اردو شاعری میں غالبؔ اپنی نئی چھاپ لیے سب سے جدا اور سب سے منفرد نظر آتے ہیں۔
غالبؔ کی شاعری میں جہاں مشکل پسندی ہے وہیں سادگی کے جوہر بھی خوب نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے بعض اشعار سہل ممتنع کی اعلی نظیر معلوم ہوتے ہیں جو کہ سادگی اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مثلا یہ اشعار دیکھئے :
ذرےذرے میں ہے خدائی دیکھو
پربت میںشانِکبریائی دیکھو
اعداد تماممختلف ہیں باہم
ہر ایک میں ہے مگر اکائی دیکھو
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
کوئیدن گر زندگانی اور ہے
ہم نے اپنے جی میں ٹھانی اور ہے
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا وفا کیا ہے
آگےآتی تھی حال ِدل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیںآتی
تصوف اور سادگی سے ہٹ کر جب ہم تصور عشق کی بات کرتے ہیں تو غالبؔ کے کلام میں عشق اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ متحرک نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں حسن و عشق کے تصورات اگر چہ قدامت پسند اور اپنے اندر روایاتی پہلو لیے ہوئے ہیں لیکن غالبؔ کی فطریجدت پسندی نے ان کو صرف ان ہی موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے ذاتی تجربات و محسوسات کی روشنی میں حسن و عشق کے بارے میں انھوں نے عام روش سے ہٹ کر اپنی انفرادیت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ انھوں نے پہلی بار عشق کو نفسیاتی حقیقتوں کے ساتھ بیان کیا ہے جس سے ان کی عشقیہ شاعری میں ایک مصورانہ شان آگئی ہے۔ وہ عشق کی عظمت کے قائل ہیں اور جذبہ عشق سے سرشار نظر آتے ہیں۔ مثلا ً یہ اشعار دیکھئے :
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہلگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
عشق نے غالبؔ نکماکردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پوچھتا ہوں اس بتِبیداد گر کو میں
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اڑتا ہے
شعلہ عشقرو پوش ہوا میرے بعد
الغرض مرزا غالبؔ کی شاعری، فلسفہ و فکر کا ایک ایسا انمول خزانہ ہے جس سے آج کی نوجوان نسل نہ صرف فیضیاب ہوسکتی ہے بلکہ ان کے اندر غالبؔ فہمی کا شعور بھی بیدار ہوسکتا ہے۔

