Nida e Naseem

Date: 23/10/2026 11 جمادی الاول 1448 ھ
آج کا شعر: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا (غالب )

پروفیسرمقبول احمد مقبول کی ہمہ جہت خدمات نا قابلِ فراموش

سید عقیل احمد
صدر بزمِ ادب اودگیر

بزمِ‌ادب اودگیر اور ادارۂ ادبِ اسلامی اودگیر کی جانب سے10/اکتوبر کو گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس کے کانفرنس ہال میں شعبۂ اردوایم ۔یو کالج کے موظف پروفیسر استاذالاساتذہ مقبول احمد مقبول کی گراں قدر ادبی،علمی،تدریسی،تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین‌پیش کرنے کےلیے شاندار پیمانے پر جلسۂ اعترافِ خدمات منعقد کیا گیا۔جلسےکی صدارت پروفیسر شیخ عظیم الدین سابق ڈین‌انٹگرل یونیورسٹی لکھنٔو نے کی۔

یہ بھی پڑھیں : ویرناری چاکلی الما کی 131 ویں یومِ پیدائش تقریب میں شعبہ اردو کا شاندار مظاہرہ

لکچرر دائمی عبدالرحیم نےجلسے کی غرض وغایت بتاتے ہوئے مقبول احمد کی شخصیت اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی جب کہ سید عقیل احمد صدر بزمِ ادب نے‌موصوف کا جامع تعارف پیش کیا۔ مہمانانِ‌خصوصی میں سیدی خلیل احمد نےکہا کہ اودگیر کی ادبی فضا مدتِ‌دراز سے ماند پڑی ہوئی تھی۔مقبول احمد مقبول کے آنے سے یہاں ادبی سرگرمیوں‌کا نئے سرے سے آغاز ہوا۔

انھوں‌نے اپنی نگرانی اور تربیت میں نئے قلم کاروں‌کی بہترن‌ٹیم تیارکی۔اودگیر کی ادبی اور علمی تاریخ میں‌موصوف کا نام‌ ہمیشہ روشن رہے گا۔پروفیسر محبوب ثاقب نے کہا کہ‌مقبول احمد مقبول کا شمارموجودہ عہد کے ایسے معتبر اور استاد شعرا میں ہوتا ہے جنھیں‌غزل ،نظم، رباعی اور قطعہ جیسی مختلف اصناف پر قدرت حاصل ہے۔موصوف صاحبِ نظر نقاد کی حیثیت سے بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ایم‌۔یو کالج کے پرنسپل پروفیسر راجکمار مسکے نے کہا کہ مقبول صاحب خاموش مزاج، اپنے کام سے کام‌رکھنے والے اور نیک سیرت استاد رہے ہیں۔

میں‌نے اپنی اڑتیس سالہ کالج کی زندگی میں ایسا‌دیانت دار،مخلص اور طلبا کی فکر کرنے والا استاد اور کوئی نہیں دیکھا۔فیاض علی سکندر نے مقبول احمد مقبول کی شاعری کے حوالے سے مضمون‌پیش کیا اور کہا غزل کےعلاوہ رباعی جیسی مشکل صنف میں انھوں‌نے پورا دیوان ترتیب دے کر رباعی گو شعرا میں‌ممتاز مقام حاصل کر لیا ہے۔
پروفیسر لکشمی کانت پنسلوارنے کا احساس یہ رہا کہ پروفیسرمقبول نے طلبہ کو صرف کتابی علم‌ہی نہیں دیا بلکہ اردو زبان‌کی تہذیب اور محبت کو ان‌کے سینوں میں اتار دیا ہے۔ پرنسپل محمد‌ انور حسین کہا کہ مقبول صاحب کی شخصیت کے متعلق کیا کہیں کہ جس محفل میں شمع جل رہی ہے جس کی روشنی پھیل رہی ہے تو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ شمع وہی ہے جس نے ظلمتوں کو دور کرنے کا کام کیا ہے۔

موصوف اچھے استاد، اچھے انسان،اچھے، دوست اور مربی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یافعی عبدالرشید اور محمد اکرام‌ نے مقبول احمد مقبول کےمنتخب اشعار پیش کر کے اس پرتبصرہ کیا۔پروفیسر شیخ عظیم‌الدین‌نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جتنے صاحبین‌نے مقبول صاحب پر اظہارِ خیال کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے طلبا،کالج کے اسٹاف اور شہریانِ‌اودگیر کے درمیان کس قدر ہر دلعزیز اور مقبول ہیں۔موصوف جہاں مثالی استاد اور تعمیری فکر کےحامل نامور شاعرو ادیب ہیں وہیں وہ زبردست انتظامی صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں۔

انھوں نے پانچ برس تک ادارۂ ادبِ اسلامی مہاراشٹر کے ریاستی صدر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام‌دیں۔ اس دوران میں انھیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ موصوف ‌نےمختلف عصری موضوعات پر پانچ قومی کانفرنسیں اور کل ہند مشاعرے جس خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کروائے وہ ان کی صلاحیتوں کا روشن ثبوت ہے‌۔ان‌کی ہمہ جہت خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

ڈاکٹر صابر محمود نے نظامت کی اور یوسف احمد نے شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد پروفیسر مقبول احمد‌مقبول کی صدارت میں کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا۔مولانا تصدق ندوی صدر جمعیۃ العلما بیدر اور مولانا توفیق قاسمی نے مہمانا نِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔پرویز حیدر،اکرام‌اظہر،فیاض علی سکندر، فرید مونس،اسرار دانش،ابو اشہر زہیر،انور حسین،ڈاکٹر ثاقب منشا،مبین عاقب،عقیل احمد، شاداب شرمالی،محمد شاکر،یوسف احمد اور ناظمِ مشاعرہ عمران‌راغب نے کلام سنایا۔

0 0 votes
Article Rating

Leave a Reply

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
اوپر تک سکرول کریں۔
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x