Nida e Naseem

Date: 20/04/2026 1 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

آزاد نظم: ” اسفلُ السافلین "

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

1۔ایک گروہ وہ تھا
جو پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر
اپنے ہی ہاتھوں
جہنم کا ایندھن بن گیا
یہ زبانوں کا مذہب گھڑتا رہا
عربی کو رسولِ عربی ﷺ
کی نسبت دے کر
یہ فریب پھیلاتا رہا
کہ مسلمانوں کی پہچان
صرف عربی ہے
اردو نہیں
یوں
انہوں نے اردو کے حق پر
نہ صرف ڈاکا ڈالا
بلکہ
ایک ایک لقمے کے عوض
اس زبان کو
سرِ بازار ذبح کیا

یہ بھی پڑھیں : آزاد نظم: چارج شیٹ

2۔ ایک اور گروہ تھا
جو اردو پڑھنے، لکھنے
اور سمجھنے سے قاصر
مسندوں پر براجمان تھا
ان کا ضمیر
کب کا مر چکا تھا
یہ لوگ
گندگی کے راستوں سے
کرسیوں تک پہنچے
اور اقتدار کے ہر لمحے میں
اردو کو
آہستہ آہستہ
بے موت مارتے رہے

3۔ ایک وہ گروہ بھی تھا
جو خود کو
اردو کا ٹھیکے دار کہلاتا تھا
اقتدار کو امانت نہیں
غنیمت سمجھا
شراب و شباب کے خمار میں
ڈوبا رہا
اور
انہوں نے جسموں کے بدلے
اردو کی وراثت
سودے میں رکھ دی

4۔ کراماً کاتبین
ان سب کا نامۂ اعمال
لکھتے لکھتے
تھک چکے تھے
ہر صفحے پر
ایک ہی سطر
ابھر کر سامنے آئی
اسفلُ السافلین
اسفلُ السافلین
اسفلُ السافلین

اوپر تک سکرول کریں۔