Nida e Naseem

Date: 20/04/2026 1 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

آزاد نظم: چارج شیٹ

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

(تمام معتبر شعراء سے معذرت کے ساتھ)

چارج شیٹ

میں شاعر ہوں۔
اور یہ
میرا نسب نامہ ہے:
اہلیہ نے خودکشی کر لی
زوجہ سلیب پر لٹک گئی
منکوحہ
میرے لمس سے
موت کے گھاٹ اتری
اور
صاحبہ نے
خواب مجھ سے چھین لیے
یہ حادثے نہیں تھے
یہ
میرے ہاتھوں کی تاریخ تھی
اور انہی کے بعد
میں آہستہ نہیں،
باقاعدہ
شاعر بنتا گیا
بس لکھتا جاتا ہوں
نام کے لیے،
نمود کے لیے،
نمائش کے لیے،
واہ واہی کے لیے—
شاعری میرا شوق نہیں،
میرا پردہ ہے
میں ادب کا ڈاکٹر نہیں،
مگر ڈاکٹر لکھتا ہوں
کیونکہ
میں زخم دے کر
نسخے لکھتا ہوں
روزگار میرا
محنت سے نہیں
خاموشی سے چلتا ہے
نمود و نمائشیوں کو تلاش کر کے
ان کے لیے مجموعے لکھتا ہوں
یہ لوگ میرے خرچ اٹھاتے ہیں
مجھے اسٹیج کا دلہا بھی بناتے ہیں
تالیاں
میرے جرائم کی گواہ ہوتی ہیں
اور میں
جھک کر سلام کرتا ہوں
ہر دن،
انہی کے ہاتھوں سے
ہر دن
تہنیتی تقریب کرواتا ہوں—
خوب شور مچاتا ہوں
تاکہ
کسی کو
چیخ سنائی نہ دے
ہاں، ہاں، ہاں
میں شاعر ہوں
سچ یہ ہے
میں ایک ریاکار روح ہوں
میں ایک سیاہ کار ولولہ ہوں
کرداری موت کا
وہ منظرنامہ
جس کی لاش
صدیوں سے بدبو پھیلا رہی ہے
اور اس بدبو سے
انسانی فضا
آہستہ آہستہ
سڑ رہی ہے
اور میں…
اسی تعفن کے بیچ
کھڑا ہو کر
شاعری کرتا ہوں
صاف کپڑوں میں
گندے ہاتھوں کے ساتھ

اوپر تک سکرول کریں۔