Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں ، شخصیت سازی اور تابناک مستقبل کی کلید

 

اکثر والدین اور طلبہ کے علاوہ سماج میں اکثریت کا یہ خیال ہے  کہ تعلیم صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود ہے لیکن جدید دنیا میں تعلیم کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اب نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی تعلیمی نظام کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی سرگرمیاں طلبہ کی شخصیت سازی، ان کے رویے، اور عملی زندگی کے لیے تیاری ، شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کالج کی تقریبات جیسے سیمنار، سمپوزیم،خیر مقدمی اور الوداعی تقاریب ، سالانہ جلسے یا ثقافتی پروگرام صرف رسمی اجتماعات نہیں بلکہ یہ طلبہ کے اندر مہمان نوازی، خوش اخلاقی، سجاوٹ کا ذوق اور سلیقہ مندی جیسی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔

سیمنار اور مہمان نوازی کا تربیتی پہلو

کالج کی زندگی میں سیمنار اور ورکشاپس عام بات ہیں۔ ان تقاریب کے دوران جب طلبہ کو ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تو وہ براہِ راست "پریکٹیکل لرننگ” کا حصہ بنتے ہیں۔ مہمانوں کو دعوت نامے بھیجنے، ان کا استقبال کرنے، نشستوں کی ترتیب بنانے اور ضیافت کے انتظامات میں حصہ لینے والے طلبہ دراصل ایک طرح سے "ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری” مہمان نوازی کی صنعت کی بنیادی تربیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ تجربہ انہیں سکھاتا ہے کہ مہمان کے ساتھ مسکرا کر بات کیسے کی جاتی ہے، مشکلات کے باوجود صبر اور تحمل کیسے برقرار رکھا جاتا ہے، اور دوسروں کو اہمیت دینے کا انداز کیا ہونا چاہیے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ایک کامیاب سماجی اور خاندانی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نذیر احمد میموریل لکچر بعنوان ’’مولوی علاء الدین اور طرے باز خان شہید‘‘ کا کامیاب انعقاد

سجاوٹ اور جمالیاتی ذوق

تقریبات کی سجاوٹ کو بظاہر ایک چھوٹا سا پہلو سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ طلبہ کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ہے۔ کالج کے آڈیٹوریم، اسٹیج یا ہال کو مختلف انداز میں سجانا صرف رنگ برنگے پردے یا پھول لگانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل جمالیاتی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔

ویمنس یونی ورسٹی کے کمپیوٹر سیکشن کا ایک منظر

رنگوں کی ہم آہنگی، روشنیوں کا استعمال، اشیاء کی ترتیب اور فنکارانہ ٹچ  یہ سب طلبہ کے "ایس تھیٹک سینس” کو جِلا بخشتے ہیں۔ یہی ذوق بعد کی زندگی میں گھر کی سجاوٹ، تقریبات کی ترتیب اور حتیٰ کہ پیشہ ورانہ ماحول میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔خاص کر لڑکیوں کےلئے یہ کسی اہم ہنر سے کم نہیں ہوتا کیونکہ کالج کے زمانہ میں سیکھی گئی یہ صلاحیتں انہیں شادی کے بعد سسرالی گھروں کی خوبصورتی بڑھانے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔

مثال کے طور پر، ایک طالبہ نے بتایا کہ کالج کے ثقافتی پروگرام کی سجاوٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اس نے گھر پر شادی کے موقع پر بہترین انتظام کیا، اور خاندان کے سب افراد اس کی تخلیقی سوچ پر حیران رہ گئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کالج کی یہ سرگرمیاں کس طرح ذاتی زندگی میں براہِ راست فائدہ پہنچاتی ہیں۔

ٹیم ورک اور قیادت کی مشق

سیمنار یا ثقافتی پروگرام ایک یا دو افراد کے بس کی بات نہیں ہوتے۔ ان کی کامیابی کے پیچھے ایک بڑی ٹیم کی محنت شامل ہوتی ہے۔ یہی ٹیم ورک طلبہ کو تعاون، برداشت اور قیادت کے اصول سکھاتا ہے۔ جب مختلف ذہنوں اور رویوں والے طلبہ مل کر ایک ہدف کے لیے کام کرتے ہیں تو ان میں باہمی اختلافات کو برداشت کرنے اور مشترکہ فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

اساتذہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹیم ورک کا سبق طلبہ کو بعد کی پیشہ ورانہ زندگی میں بے حد فائدہ دیتا ہے۔ کسی دفتر، ادارے یا کاروبار میں کامیاب ہونے کے لیے یہی صلاحیتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ لڑکیوں کےلئے یہ ٹیم ورک کا کام سسرالی گھرانوں میں زندگی کو خوشگوار بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے کیونکہ سسرال میں ساس، نند ، بھاوج ، دیورانی اورجیٹھانی کی شکل میں مختلف ذہن ہوتے ہیں اور ان سب کے ساتھ مل کر گھرکو خوش گوار ماحول فراہم کرنے والی لڑکی ایک بہترین بہو کا ایوارڈ بھی حاصل کرپاتی ہے ۔

ماہرین تعلیم کی رائے

ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر شعیب رضوی کہتے ہیں: "آج کے دور میں صرف کتابی علم کافی نہیں۔ کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ کو عملی دنیا کے لیے تیار کرتی ہیں۔ مہمان نوازی، سجاوٹ اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتیں نہ صرف ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہیں بلکہ انہیں ایک ذمہ دار شہری بھی بناتی ہیں۔”

اسی طرح ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ثمرین فاطمہ کے مطابق: "تقریبات میں شرکت طلبہ کے اعتماد کو بڑھاتی ہے۔ اسٹیج پر جانے یا مہمانوں سے بات کرنے کا تجربہ ان کے اندر جھجک ختم کرتا ہے۔ یہ اعتماد بعد میں ان کے کیریئر اور سماجی تعلقات میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔”

طلبہ کے تاثرات

کچھ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں نے ان کے اندر خود اعتمادی کو بڑھایا۔ ایک طالبہ  نے کہا کہ:
"جب پہلی بار مجھے سیمنار میں مہمانوں کی رہنمائی کی ذمہ داری دی گئی  تو میں گھبرا رہی  تھی لیکن آہستہ آہستہ یہ تجربہ میرے لیے دلچسپ بن گیا اور اب میں کسی بھی بڑے اجتماع میں بلا جھجک بات کر سکتی ہوں۔”مہان نوازی کا ہنر بھی سیکھ لیا ہے ۔

اسی طرح ایک طالبہ کا کہا ہے کہ :ہال کی سجاوٹ نے مجھے یہ سکھایا کہ ترتیب اور خوبصورتی کتنی اہم ہے۔ اب میں گھر میں بھی چیزوں کو بہتر انداز میں رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔”

معاشرتی اور ثقافتی پہلو

ان سرگرمیوں کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ طلبہ کو اپنی تہذیبی اور سماجی اقدار سے جوڑتی ہیں۔ مہمان نوازی ہمارے معاشرے کی بنیادی خصوصیت ہے اور کالج کی تقریبات میں اس کا عملی مظاہرہ طلبہ کے اندر یہ روایت راسخ کرتا ہے۔

گھر کی سجاوٹ اور سلیقہ مندی بھی ہماری خاندانی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ جب طلبہ کالج میں اس ذوق کی تربیت پاتے ہیں تو وہ اپنی گھریلو زندگی کو بھی بہتر انداز میں سنوارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں محض تفریح یا وقتی مصروفیت نہیں ہوتیں بلکہ یہ طلبہ کی شخصیت سازی کا عملی میدان ہیں۔ سیمنار کی مہمان نوازی ہو، تقریبات کی سجاوٹ یا ٹیم ورک کا تجربہ  یہ سب ان کے اندر اعتماد، تخلیقی صلاحیت، سلیقہ مندی اور سماجی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سرگرمیاں طلبہ کے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہیں۔

تعلیم صرف کتابی علم سے نہیں بلکہ انہی تجربات سے مکمل ہوتی ہے، جو ایک طالب علم کو ایک ذمہ دار، خوش اخلاق، اور سلیقہ مند فرد بناتے ہیں۔جب کبھی ایسا موقع ملتا ہے تو اساتذہ اور والدین کو چاہیئے کہ وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں ۔طلبہ کو دوستانہ ماحول میں سیکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع فراہم کریں ۔ آج کے یہ طلبہ کل سماج کے معمار ہوں گے

اوپر تک سکرول کریں۔