Nida e Naseem

Date: 08/05/2026 19 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

نویں نظام آصف جاہی خاندان نواب رونق یار خان کا  ویمنس یونیورسٹی میں نذیر احمد میموریل لکچر سے خطاب

آصف جاہی خاندان کے نویں نظام عالی جناب نواب رونق یار خان نے ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونیورسٹی کوٹھی حیدرآباد  میں منعقدہ "نذیر احمد میموریل لکچر” سے خطاب کرتے ہوئے 1857ء کی پہلی جنگِ آزادی کے مجاہدین مولوی علاءالدین اور طرے باز خان شہید کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

یہ لیکچر ویمنس یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام اور نذیر احمد ایجوکیشنل اینڈ میموریل ٹرسٹ کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس کی صدارت نواب رونق یار خان نے فرمائی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ اور تحفظ کے ساتھ ساتھ تاریخ کے ان فراموش کردہ ہیروز کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب اور تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نذیر احمد میموریل لکچر بعنوان ’’مولوی علاء الدین اور طرے باز خان شہید‘‘ کا کامیاب انعقاد

اس موقع پر پروفیسر عرشیہ جبین نے تحقیقی لیکچر پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر محمد شعیب احمد، فرزندِ شہید محمد نذیر احمد، نے اردو کی بقاء اور تاریخی شعور کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مختلف معزز مقررین میں عبدالحمید شوکت (ایڈیٹر "جسٹس ٹائمز”)، عالی جناب مرتضیٰ فاروقی (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ)، جناب ریاض احمد (سینئر صحافی روزنامہ "سیاست”) اور جناب شجیع اللہ فراست (ایڈیٹر "اعتماد”) شامل تھے، جنہوں نے اپنے خیالات پیش کیے۔

نویں نظام آصف جاہی خاندان نواب رونق یار خان

تقریب میں شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اردو زبان کی خدمت پر جناب محمد محمود علی سہیل اور ڈاکٹر محمد شعیب احمد کو سندِ توصیف سے نوازا گیا، جبکہ شعبۂ اردو کی فیکلٹی—ڈاکٹر غوثیہ بانو، ڈاکٹر ثمینہ بیگم اور ڈاکٹرمحمد احتشام الحسن کو بھی ان کی خدمات پر اعزاز پیش کیا گیا۔

اوپر تک سکرول کریں۔