Nida e Naseem

Date: 22/07/2026 6 صفر 1448 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

تم پر سلام،شاہِ شہیدانِ کربلا

پروفیسرمقبول احمد مقبول
چٹگوپہ ضلع بیدر (کرناٹک)
9028598424

منقبتِ حضرت حسین

تم پر سلام،شاہِ شہیدانِ کربلا

پیغام دے رہا ہے یہ میدانِ کربلا
ہر دل کو ہونا چاہیے ارمانِ کربلا

ہے‌جذب اس میں خونِ شہیدانِ کربلا
سرسبز ہیں جو نخل و نہالانِ کربلا

مٹی یہاں کی لعل وجواہر سے قیمتی
مثلِ گلاب ، خارِ مغیلانِ کربلا

یہ بھی پڑھیں : اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟

کیوں ارضِ کربلا نہ ہو ممنوں حسین کی؟
اُن کے طفیل ہی تو بڑھی شانِ کربلا

اندھیر وہ مچا تھا کبھی اس زمین پر
نم دیدہ آج بھی ہیں غزالانِ کربلا

ایسا سلوک کرتا ہے مہمان سے کوئی؟
اے ظالمو! حسین تھے مہمانِ کربلا

دنیا میں ایسی شام نہیں آئی پھر کبھی
تھی سخت جیسی ، شامِ غریبانِ کربلا

سارے یزیدی نشۂ باطل میں چُور تھے
حق پر تھے پیرو طفل و جوانانِ کربلا

دنیا ہے دنگ ہمتِ مردانہ دیکھ کر
تم پر ہے آفرین!شجاعانِ کربلا

اُن کے قدومِ پاک سے سر سبز ہو گئی
بنجر زمین ،وادیِ ویرانِ کربلا

حیدر کے پیارے ہیں تو چہیتے رسول کے
اللہ کے بھی خاص ہیں خاصانِ کربلا

لیتے ہیں ان کے نام‌ فرشتے، ادب کے ساتھ
اللہ رے شانِ خاک نشینانِ کربلا

عون ومحمد ،اکبر و عباس اور حُر
تھے کیسے کیسے جان‌نثارانِ کربلا

آواز اٹھتی ہے جو کہیں ظلم کے خلاف
میری نگاہ میں ہے یہ فیضانِ کربلا

ہوتا ہے جان ودل سے وہ شیدا حسین پر
جس شخص کو بھی ہوگیا عرفانِ کربلا

مجبور و بےنوا انھیں سمجھا کرے کوئی
میر ی نظر میں تو ہیں  وہ سلطانِ کربلا

اس جنگ نے بتا دیا کرنا ہے کیا ہمیں
دنیا پہ اک طرح سے ہے احسانِ کربلا

ہے آج بھی زمانے کو حاجت حسین کی
ہے گام گام آج تو میدانِ کربلا

تھا فتح گر یزید ،مگر سچ تو ہے یہی
ہے کامران یوسفِ زندانِ کربلا

حق کے قیام کے لیے کنبہ لٹا دیا
تم پر سلام،شاہِ شہیدانِ کربلا

اوپر تک سکرول کریں۔