ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
استاد اردو،حیدرآباد، دکن
نظم
” قوموں کی آخری سد”
میں
یہ بھی پڑھیں : پل بن رہے ہیں، مستقبل ٹوٹ رہے ہیں؟
سدِ ذوالقرنین ہوں—
کوئی واعظ نہیں،
کوئی مصالحتی قرارداد نہیں۔
میرا کام
تالیاں لینا نہیں،
میرا کام
یاجوج و ماجوج
کے دانت توڑنا ہے۔
وہ
انسان نہیں،
فساد کی نسل ہیں—
جو
تعلیم کو چاٹتے،
ضمیر کو پی جاتے،
اور
قوموں کو
کھوکھلا چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ
ہر صبح
سد پر تھوکتے ہیں،
ہر شام
ایک بالشت
ضمیر نوچ لے جاتے ہیں،
اور
رات کو
خود کو
مصلح کہتے ہیں۔
میں
مادری تعلیم ہوں—
اس لیے
انہیں گونگا کرنا
میرا فرض ہے۔
میں
نسلوں کی تعمیر ہوں—
اس لیے
ان کی فکری نسل کشی
میری مجبوری ہے۔
بدی
کو مت سمجھو
کہ وہ حادثہ ہے—
وہ منصوبہ ہے،
فائلوں میں دستخط شدہ،
خطابوں میں مسکراتی،
اور
محرابوں میں
خاموش۔
یہ
یاجوج و ماجوج
طبریہ نہیں،
فرات نہیں—
یہ
قوموں کا خون پیتے ہیں،
اور
اسے
ترقی کا نام دیتے ہیں۔
وہ
زمزم کو بھی
فلٹر میں ڈال کر
بیچ دیں
اگر
منافع نکل آئے۔
لیکن
ہر رات
یہ بھول جاتے ہیں
کہ
حکمِ الٰہی
برحق ہے۔
لیکن
ہر صبح—
نہ اعلان،
نہ نعرہ،
نہ تلوار۔
بس
ایک
ٹھہرا ہوا
وجود۔
ان کی محنت
خاک میں۔
میری
آواز
خاموش۔
میرا
فیصلہ—
…
اللہ پر۔
اسی یقین سے
سد
ہر بار
پھر
ایستادہ ہوتی ہے۔




