Nida e Naseem

Date: 31/05/2026 13 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ڈاکٹر ثمینہ بیگم کو نذیر احمد میموریل لیکچر کے موقع پر سند توصیف سے نوازا گیا

ویرا ناری چاکلی ایلماویمنس یونی ورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ اردو کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر ثمینہ بیگم کو نذیر احمد میموریل لیکچر کے موقع پر  "سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن” پیش کیا گیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ اردو  نے ان کی انتھک محنت، تعلیمی خدمات اور غیر معمولی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر  ثمینہ بیگم کی علمی کاوشوں نے شعبہ اردو کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

سرٹیفکیٹ میں مزید کہا گیا کہ ادارہ ان کی تعلیمی خدمات اور قربانیوں کا معترف ہے اور دعاگو ہے کہ انہیں جلد مستقل ترقی حاصل ہو۔ یونی ورسٹی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی وہ اسی طرح اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونی ورسٹی (تلنگانہ مہیلا وشو ودیالیہ اور کوٹھی ویمنس کالج) کے شعبہ اردو میں 2022ء سے جز وقتی لکچرر کے طور پر خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر ثمینہ بیگم کا شمار اردو کی ممتاز محققہ، ادیبہ اور محققہ خواتین میں کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر غوثیہ بانوکو سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن سے نوازا گیا

ڈاکٹر ثمینہ بیگم نے اپنی تعلیمی سفر کا آغاز مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد سے کیا جہاں انہوں نے ایم اے اور ایم فل اردو میں امتیاز ی کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ UGC-NET (2020) اور TS-SET (2017) میں بھی کامیاب ہیں۔

صرف ادب ہی نہیں بلکہ مختلف فنون میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اردو ڈی ٹی پی، کمپیوٹر ایپلیکیشنز، فیشن ڈیزائننگ، بُنائی، ہاتھ کی کڑھائی اور فیبرک پینٹنگ میں ڈپلومے حاصل کیے ہیں۔

ان کی ادبی کاوشوں میں چار کتب شامل ہیں:

  1. دکنی نثر کا آغاز و ارتقا (2024)

  2. حیدرآبادی ڈھولک کے گیت (2019)

  3. جنوبی ہند میں ڈھولک کے گیتوں کی روایت (2015)

  4. احساس (2004)

ڈاکٹر ثمینہ بیگم کے مضامین، کہانیاں اور تنقیدی مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیقی اور تخلیقی خدمات کو حکومتِ تلنگانہ نے بھی تسلیم کیا اور انہیں "ویمن اچیور ایوارڈ 2022” سے نوازا۔ اس کے علاوہ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی نے ان کی کتب جنوبی ہند میں ڈھولک کے گیتوں کی روایت (2015) اور حیدرآبادی ڈھولک کے گیت (2024) پر "ادبی ایوارڈ” عطا کیا۔

وہ محفلِ خواتین اور کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین، تلنگانہ اسٹیٹ کی رکن بھی ہیں۔ ان کی جانب سے محفلِ خواتین، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، ریڈیو چارمینار، لامکاں اور حیدرآباد لٹریری فیسٹیول 2023 میں ڈھولک کے گیت کے پروگرام منعقد کیے گئے جنہیں بے حد سراہا گیا۔

ڈاکٹر ثمینہ بیگم نے متعدد قومی و بین الاقوامی سمینارز میں مقالے بھی پیش کیے ہیں۔ ان کی شخصیت بیک وقت استاد، محققہ، ادیبہ، تخلیق کار ، شاعرہ اور فنون لطیفہ کی شائقہ کے طور پر نمایاں ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔