Nida e Naseem

Date: 26/05/2026 8 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ڈاکٹر غوثیہ بانوکو سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن سے نوازا گیا

ویرا ناری چاکلی ایلماویمنس یونی ورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ اردو کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر غوثیہ بانوکو نذیر احمد میموریل لیکچر کے موقع پر (19 اگست 2025) "سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن” پیش کیا گیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ اردو  نے ان کی انتھک محنت، تعلیمی خدمات اور غیر معمولی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر غوثیہ بانو کی علمی کاوشوں نے شعبہ اردو کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

سرٹیفکیٹ میں مزید کہا گیا کہ ادارہ ان کی تعلیمی خدمات اور قربانیوں کا معترف ہے اور دعاگو ہے کہ انہیں جلد مستقل ترقی حاصل ہو۔ یونی ورسٹی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی وہ اسی طرح اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر غوثیہ بانو نواب رونق یار خان کے ہاتھوں اپنا ایوارڈ لیتے ہوئے ۔

یادرہے کہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور تحقیقی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر غوثیہ بانو کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ خواتین کالج کوٹھی سے ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے ایم فل کا موضوع "منظورالامین کی علمی و ادبی و صحافتی خدمات” جبکہ پی ایچ ڈی کا موضوع "دورِ عثمانیہ کے فرامین و دستاویزات کا لسانی و اسلوبی مطالعہ” رہا۔

یہ بھی پڑھیں : نذیر احمد میموریل لکچر بعنوان ’’مولوی علاء الدین اور طرے باز خان شہید‘‘ کا کامیاب انعقاد

ڈاکٹر غوثیہ کے تحقیقی کام کو مختلف علمی اداروں نے سراہا ہے۔ ان کی پہلی کتاب "منظورالامین: نباضِ فکر و فن" کو اردو اکیڈمی تلنگانہ نے تحقیق و تنقید کے زمرے میں دوسرا انعام دیا۔ دوسری کتاب "دورِ عثمانیہ کے فرامین و دستاویزات کا لسانی و اسلوبی مطالعہ" کو بنگال اردو اکیڈمی نے انعام سے نوازا، جبکہ تیسری کتاب "دورِ عثمانیہ کے فرامین و دستاویزات کی روشنی میں" کو بھی اردو اکیڈمی تلنگانہ کی جانب سے دوسرا انعام حاصل ہوا۔ یہ تمام کتب اردو اکیڈمی تلنگانہ کے اشتراک سے شائع ہوچکی ہیں۔

ادبی و تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غوثیہ بانو نے تدریس اور نصابی کتب کی تیاری میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے لیے انہوں نے درسی مضامین لکھے، جبکہ بورڈ آف اسٹڈیز (BOS) کی میٹنگز میں بھی حصہ لیا۔ وہ پروفیسر جی۔ رام ریڈی ڈسٹنس ایجوکیشن سینٹر (عثمانیہ یونیورسٹی) میں کونسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ صرف تعلیمی دنیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی۔ 4 ٹی وی نیوز چینل پر بطور نیوز ریڈر خدمات انجام دے کر انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

ڈاکٹر غوثیہ بانو نے مختلف قومی و بین الاقوامی سیمینارز میں مقالات پیش کیے اور متعدد اردو جرائد میں ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی شخصیت بیک وقت ایک محققہ، نقادہ، استاداور میڈیا سے وابستہ فعال خاتون کے طور پر سامنے آتی ہے۔

 

اوپر تک سکرول کریں۔