Nida e Naseem

Date: 30/05/2026 12 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

ترنگے کی کہانی اور حیدرآباد کی بیٹی: محترمہ ثریا طیب جی

 

 

15 اگست کی صبح جب ہندوستان آزادی کا جشن مناتا ہے، لال قلعہ سے لے کر گاؤں کے اسکول تک، ہر جگہ ترنگا ہوا میں لہراتا ہے۔ اس کے تین رنگ زعفرانی ، سفید اور سبز کے علاوہ  اشوک چکر ہمارے دلوں میں ایک عجیب سا جوش پیدا کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب اس پرچم کی تخلیق میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والی ایک خاتون  محترمہ ثریا طیب جی  کا نام زیادہ تر تاریخ کی کتابوں میں دب گیا ہے۔ ثریا طیب جی نہ صرف ایک فنکارہ اور قوم پرست تھیں بلکہ حیدرآباد دکن کی وہ بیٹی تھیں جنہوں نے اپنے تخلیقی ہنر سے ہندوستان کو اس کی سب سے بڑی پہچان  قومی پرچم دیا

ثریا طیب جی کا تعلق حیدرآباد کے ایک نہایت معزز اور اثر و رسوخ رکھنے والے گھرانے سے تھا۔ وہ سر اکبر حیدری کے خاندان سے تھیں، جو ریاست حیدرآباد کے وزیرِاعظم بھی رہے۔ ان کی شادی بدرالدین طیب جی آئی سی ایس سے ہوئی، جو ہندوستانی سیول سروس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

یہ پس منظر انہیں تعلیم، سماجی خدمت اور فنونِ لطیفہ سے قریب لے آیا۔ گھر کا ماحول روشن خیالی، قوم دوستی اور سماجی شعور سے بھرپور تھا۔ یہی ماحول بعد میں ان کی شخصیت میں وہ جرات اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے جو ایک قومی نشان تخلیق کرنے کے لیے ضروری تھی۔

ثریا طیب جی ایک غیر معمولی مصورہ تھیں۔ ان کی پینٹنگز میں محض رنگوں کا کھیل نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر برش اسٹروک ایک پیغام لیے ہوتا تھا۔ آزادی، خودداری اور مساوات کا پیغام۔ ان کی پینٹنگز دیکھنے والا صرف ایک فن پارہ نہیں دیکھتا تھا بلکہ ایک عہد کی دھڑکن محسوس کرتا تھا۔

آزادی کی تحریک کے دوران انہوں نے اپنے فن کو ہتھیار بنایا۔ ان کے بنائے ہوئے پوسٹرز، اسکچز اور تصاویر عوام میں بیداری پیدا کرتے تھے۔ خاص طور پر خواتین میں آزادی کا جوش بھرتے تھے، انہوں نے فن کے ذریعے حب الوطنی کا جذبہ بیدار کیا۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کا ترنگا پنگالی وینکیا نے ڈیزائن کیا، مگر اصل تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ موجودہ شکل کا ڈیزائن ثریا طیب جی نے پیش کیا۔ سال 1916 میں، جب آزادی کی تحریک ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی، ثریا طیب جی نے مہاتما گاندھی کے سامنے قومی پرچم کے 30 ڈیزائن پیش کیے۔ ہر ڈیزائن میں مختلف رنگوں، علامتوں اور پیغامات کا امتزاج تھا۔ کئی دنوں کی مشاورت، بحث اور غور کے بعد گاندھی جی نے ان کے ایک ڈیزائن کو منتخب کیا۔

یہ ڈیزائن اپنی سادگی میں عظیم تھا:

  • کےسرِیا رنگ: قربانی اور حوصلہ
  • سفید رنگ: امن اور سچائی
  • سبز رنگ: خوشحالی اور امید
  • اشوک چکر: قانون، انصاف اور پیش رفت کی علامت

یہ ترنگا جلد ہی تحریکِ آزادی کا استعارہ بن گیا۔ ہر جلوس، ہر جلسے اور ہر احتجاج میں یہ پرچم لہرانے لگا۔

22 جولائی 1947 کو جب دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم کا حتمی ڈیزائن پیش کیا گیا، ایک خصوصی کمیٹی نے اس پر حتمی رائے دی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں 74 خواتین شامل تھیں — اس دور میں خواتین کی یہ نمائندگی ایک غیر معمولی بات تھی۔

ان میں سروجنی نائیڈو، زہرہ انصاری، زرینہ کریم بھائی، سکینہ نعمانی، قدسیہ عزیز رسول، شریفہ حامد علی، عائشہ احمد، اندرا گاندھی اور خود ثریا طیب جی شامل تھیں۔ ان خواتین نے متفقہ طور پر وہ ڈیزائن منظور کیا جو ثریا طیب جی نے تخلیق کیا تھا۔

آج جب 15 اگست یا 26 جنوری کو ترنگا لال قلعہ، راشٹرپتی بھون، ریاستی اسمبلیوں، اسکولوں، کالجوں اور گلی محلوں میں لہراتا ہے تو یہ محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔ یہ ایک وعدہ ہے ۔ کہ ہم قربانی دیں گے، سچائی کا علم بلند رکھیں گے اور خوشحالی کی راہ پر چلیں گے۔ یہ وعدہ اس خاتون کے خوابوں میں پیدا ہوا، جس نے ایک صدی پہلے اپنی تخلیقی صلاحیت سے ہندوستان کو ایک ایسا نشان دیا جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

تاریخ میں ثریا طیب جی کا ذکر کم ملتا ہے، مگر ان کا کارنامہ ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ اس نسل کی نمائندہ تھیں جس نے آزادی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر ممکن قربانی دی۔ ان کی تخلیق آج بھی ہر ہندوستانی کے دل میں بستی ہے اور ہمیشہ بسے گی۔ندائے نسیم تاریخ کی اس عظیم خاتون کو 15 اگست 2025کو زبر خراج عقیدت پیش کرتا ہے ۔

محترمہ ثریا طیب جی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوم کی پہچان بنانے میں صرف سیاسی لیڈر یا فوجی ہی نہیں، بلکہ فنکار، مصور اور تخلیق کار بھی اتنا ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص کرخواتین کا قوموں کے عروج میں کلیدی کردار ہوتا ہے یہ ثریا طیب جی نے ہمیں برسوں قبل ہی بتادیا ۔ جب بھی ہم ترنگے کو سلامی دیتے ہیں، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے رنگوں میں ایک حیدرآبادی خاتون کے خواب اور جذبے کی جھلک ہے۔

 

("ندائے نسیم” میں شائع شدہ مواد مصنف یا ماخذ کی ذاتی رائے ہے، ادارہ اس کی درستگی یا قانونی حیثیت کا ذمہ دار نہیں۔ کسی بھی نقصان یا قانونی دعوے کی صورت میں ادارہ جواب دہ نہیں ہوگا۔ قاری کسی بھی معلومات پر عمل سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کرلے-)

اوپر تک سکرول کریں۔