Nida e Naseem

Date: 20/04/2026 1 ذوالقعدۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

کونسل برائے قومی تعلیمی تحقیق و تربیت (این سی ای آر ٹی) کو ڈیِمڈ یونیورسٹی کا درجہ

ڈاکٹر علی بازہر ھما

ملک بھر میں جماعت اول سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیمی نصاب اور تعلیمی منصوبہ بندی تیار کرنے والی، اور اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے والی قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) اب ڈیِمڈ یونیورسٹی میں تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں، اس کے زیر انتظام مختلف ریاستوں میں قائم علاقائی ادارۂ تعلیم (آر آئی ای) کالجوں میں انٹیگریٹڈ بی ایڈ کورس کرنے والے طلبہ کو اب این سی ای آر ٹی کے نام سے ہی ڈگریاں اور اسناد دی جائیں گی۔

اب تک یہ کالیجس متعلقہ ریاستوں کی کسی نہ کسی یونیورسٹی سے الحاق رکھتے تھے اور انہی یونیورسٹیوں کے نام سے ڈگریاں جاری کی جاتی تھیں۔ اب این سی ای آر ٹی ایک خودمختار یونیورسٹی کے طور پر کام کرے گی۔ ایک دہائی پرانا منصوبہ ۔انجینئرنگ کے لیے آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹیز، اور میڈیکل کے لیے ایمس کی طرز پر، اساتذہ کی تعلیم کے لیے قومی سطح کے ادارے قائم کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے ملک بھر میں چھ آر آئی ایز ( ریجینل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن) قائم کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :جرمنی اور ہندوستان  میں  دو سالہ بین الاقوامی ماسٹرز پروگرام اِن پروفیشنل سافٹ ویئر انجینئرنگ کا موقع 

یہ ادارے میسور، بھوپال، بھونیشور، شیلانگ اور اجمیر میں موجود ہیں، جبکہ آندھرا پردیش کے نیلور میں ایک نیا ادارہ منظور کیا گیا ہے جس کے لیے این سی ای آر ٹی نے 340 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس کا مستقل کیمپس زیر تعمیر ہے۔ اب تک ان آر آئی ایز میں چار سالہ انٹیگریٹڈ بی ایڈ کورس کے ساتھ کچھ پوسٹ گریجویٹ کورسز بھی موجود تھے، جن میں ایک ساتھ ڈگری اور بی ایڈ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ تاہم، ڈگریاں جاری کرنے کے لیے کسی نہ کسی یونیورسٹی سے الحاق ضروری تھا۔

اسی لیے تقریباً ایک دہائی قبل این سی ای آر ٹی کو ڈیِمڈ یونیورسٹی کا درجہ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے بھی اس کی سفارش کی تھی۔ سال 2022 سے اس پر مرکزی حکومت نے توجہ دی، اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے این سی ای آر ٹی کو ڈیِمڈ یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔

اسی سلسلے میں رواں ماہ کی 10 تاریخ کو مرکزی حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ این سی ای آر ٹی کے ساتھ اس کے ماتحت آر آئی ایز اور بھوپال میں واقع پیشہ ورانہ تعلیم کا ادارہ بھی اس ڈیِمڈ یونیورسٹی کا حصہ ہوں گے۔ این سی ای آر ٹی کے پروفیسر شری کانت کے مطابق، “میسور کے آر آئی ای میں کچھ نشستیں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے طلبہ کے لیے مختص ہیں، لیکن کرناٹک کے علاوہ دیگر ریاستوں کے طلبہ کو زیادہ فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ اب سب کے لیے فیس یکساں ہوگی۔

” انہوں نے مزید کہا کہ این سی ای آر ٹی کو صد فیصد فنڈنگ مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے۔ ڈیمڈ یونیورسٹی سے اہم فوائد ۔ اب تک آر آئی ایز میں صرف اساتذہ کی تعلیم سے متعلق کورسز ہی موجود تھے، لیکن اب دیگر یونیورسٹیوں کی اجازت کے بغیر خودمختار طور پر پی جی اور پی ایچ ڈی کورسز شروع کیے جا سکیں گے۔ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ این سی ای آر ٹی کے نام سے راست ڈگریاں جاری ہوں گی۔ ملک کی مختلف بڑی ریاستوں میں آر آئی ایز کو آف کیمپس مراکز کے طور پر مزید وسعت دی جا سکے گی۔

 

اوپر تک سکرول کریں۔