Nida e Naseem

Date: 25/05/2026 7 ذوالحجۃ 1447 ھ
آج کا شعر: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں۔۔۔ تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں (میر تقی میر)

مساوات کا خواب : 75 سال بعد بھی خواتین کا سفر ادھورا

گزشتہ 75 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جب قانون کے سامنے برابری کے وعدے کو ہمارے دستور اور عالمی معاہدوں میں شامل کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 یہ ضمانت دیتا ہے کہ "قانون کے سامنے برابری اور قوانین کا مساوی تحفظ” سب کو حاصل ہوگا۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (1948) میں بھی یہ بات شامل ہے کہ "سب لوگ قانون کے سامنے برابر ہیں اور کسی بھی امتیاز کے بغیر مساوی قانونی تحفظ کے حقدار ہیں”۔

پھر بھی، تمام الفاظ اور قوانین کے باوجود، سچ کہیے تو، خواتین آج بھی مساوی حیثیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ 75 سال پہلے یہ تصور نہایت جراتمندانہ تھا۔ قانون صنف، ذات یا نسل کو نہیں دیکھے گا؛ وہ صرف انسان کو دیکھے گا۔ خواتین تعلیم حاصل کرسکیں گی، کام کر سکیں گی، جائیداد رکھ سکیں گی، حکومت میں حصہ لے سکیں گی اور تشدد سے آزاد زندگی گزار سکیں گی۔

ہندوستان میں، آئین کے دفعات 14، 15، 16، 39، 42 اور 51A برابری کی ضمانت دیتے ہیں، امتیاز کو روکتے ہیں اور خواتین کے لیے مساوی اجرت، مساوی مواقع اور وقار کو فروغ دیتے ہیں۔ عالمی سطح پر، سیڈا (CEDAW) جیسے معاہدے تمام اقسام کے امتیاز کے خاتمے کے لیے ممالک کو پابند کرتے ہیں۔

آئیے، اب قانونی کتابوں سے نکل کر 2025 کی حقیقت میں داخل ہوتے ہیں۔ خواتین ووٹ ڈالتی ہیں، اسکول جاتی ہیں اور بڑھتی ہوئی تعداد میں ڈاکٹر، وکیل، سائنسدان اور رہنما بنتی ہیں۔ اسکولوں میں لڑکیوں کی موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ہندوستان میں تو بعض عمروں میں لڑکیوں کا تعلیمی اندراج لڑکوں سے بڑھ گیا ہے۔

لیکن ذرا گہرائی میں دیکھیں تو خامیاں نمایاں ہیں۔ صنفی تشدد آج بھی گھروں سے لے کر عوامی مقامات تک ایک بدنما حقیقت ہے، اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔ مساوی کام کے باوجود خواتین اب بھی مردوں سے کم کماتی ہیں۔ نمائندگی میں بھی فرق واضح ہے — 2025 تک خواتین دنیا کے قومی پارلیمانوں میں صرف 27.2 فیصد نشستیں رکھتی ہیں، جو بہتری ہے لیکن مساوات سے دور ہے۔ کم از کم 24 ممالک میں خواتین اپنی شہریت بچوں کو مردوں کے برابر نہیں دے سکتیں۔ قوانین موجود ہونے کے باوجود، پدرشاہی اور مضر رسومات گہری جمی ہوئی ہیں، اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ صرف قانون سازی سے ذہنی رویے نہیں بدلتے۔

قانون کے سامنے برابر ہونا تب ہی معنی رکھتا ہے جب یہ خواتین کی روزمرہ زندگی بدل دے ۔لیکن بہت سی خواتین کے لیے قوانین تو بدل گئے، مگر کھیل کے اصول ویسے ہی لگتے ہیں۔ اسی لیے اب بھی عدم مساوات پر بات کرنا ضروری ہے۔ ترقی مساوات نہیں، اور "تقریباً برابر” برابری نہیں ہے۔ جب تک حاملہ ہونے پر کسی عورت کو ملازمت سے انکار ہوسکتا ہے، کسی لڑکی کو کم عمری میں شادی کے لیے اسکول سے نکالا جاسکتا ہے، کسی متاثرہ کو اس کے ساتھ زیادتی پر الزام دیا جا سکتا ہے، یا کسی ماں کو مساوی کام پر کم تنخواہ مل سکتی ہے — تب تک اصل مساوات کی جدوجہد ادھوری ہے۔

خواتین کے حقوق کے حقیقی تحفظ کے لیے قوانین کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا ۔ پرانے قوانین کو ختم کرکے اور ایسے نئے قوانین لانے ہوں گے جو حقیقت میں خواتین کا تحفظ کریں، نہ کہ صرف کاغذ پرہو بلکہ عملی اقدامات میں اس کا اثر دکھائی دے۔  اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی آواز ہر جگہ سنائی دے: پارلیمان میں، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں، اسکولوں میں، بورڈ رومز میں، سڑکوں پر، اور گھروں کے اندر بھی۔ حقیقی جوابدہی لازم ہے؛ قوانین صرف لکھے نہ جائیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہو، تاکہ متاثرین کو آسانی سے انصاف مل سکے، بغیر کسی تاخیر یا الزام تراشی کے۔ سب سے بڑھ کر، ہمیں گہرے ذہنی رویوں کو بدلنا ہوگا تاکہ مساوات صرف پالیسیوں اور قوانین میں ہی نہیں بلکہ ہماری سوچ، بچوں کی پرورش، اور ایک دوسرے کی حمایت میں بھی جھلکے۔

75 سال بعد، قانون بہت آگے بڑھ گیا ہے، مگر خواتین اب بھی پیچھے ہیں۔ آئیے بات جاری رکھیں، ترقی کو کم نہیں سمجھیں، لیکن یہ بھی مانیں کہ ‘تقریباً برابر’ کافی نہیں ہے۔ قانون کے سامنے برابری کوئی رسمی جملہ نہیں ہونا چاہیے — یہ ہر عورت کی ہر دن کی حقیقت ہونی چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہمارا آئینی وعدہ ادھورا رہے گا۔” — شریا شرما (سی ای او اور ڈائریکٹر، ریسٹ دی کیس)۔

ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہر عورت خود کو ہر مرد کی طرح محفوظ، بااختیار اور قابلِ احترام محسوس نہ کرے۔ قانون نے ہمیں نقشہ دیا ہے۔ اب یہ ہم سب پر ہے کہ مساوات کو مشترکہ منزل بنائیں۔

 

("ندائے نسیم” میں شائع شدہ مواد مصنف یا ماخذ کی ذاتی رائے ہے، ادارہ اس کی درستگی یا قانونی حیثیت کا ذمہ دار نہیں۔ کسی بھی نقصان یا قانونی دعوے کی صورت میں ادارہ جواب دہ نہیں ہوگا۔ قاری کسی بھی معلومات پر عمل سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کرلے-)

اوپر تک سکرول کریں۔