از: ڈاکٹرسیدہ نسیم سلطانہ
عہد بدلتا ہے تو تعینات اور ترجیحات میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب معاشرے میں مادری نظام رائج تھا۔ ماں کی طرف ہی سارے سلسلے منسوب کئے جاتے تھے۔ عورت دیوی کی طرح قابل پرستش تھی۔ مگر وقت بدلاتو پدری نظام کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عورت کی حاکمیت محکومیت میں بدلتی گئی اور پھر صنفی تعصبات کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ عورت ہر سطح پر کمزور ہوتی گئی۔
مساوات، احترام اور آزادی سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں اس کی شرکت کم ہوتی گئی۔ جب کہ قدیم سماج میں عورتوں کا رتبہ بہت بلند تھا۔ خاص طور پر ویدک عہد میں عورتوں کو مساوی حیثیت حاصل تھی۔ حتیٰ کہ انہیں اپنا شریک حیات منتخب کرنے کی بھی آزادی تھی۔ جسے اس وقت سویمبر کہا جاتا تھا۔ ہر شعبے میں خواتین کی ایک مضبوط شراکت ہوا کرتی تھی۔ اس زمانے میں لوپا مدرا، اپالا، میتری، گارگی،گھوشا اور وسو اوارا جیسی تعلیم یافتہ خواتین تھیں جو منتر اور نغمے لکھتی تھیں اور اس وقت کے رزمیوں کے نسائی کردار بھی تعلیم یافتہ تھے۔
گوتم بدھ کے عہد میں بھی عورتوں کی حیثیت مستحکم رہی۔ ان کا اپنا سنگھ تھا مگر رفتہ رفتہ بدلتے وقت کے ساتھ عورتوں کی حیثیت بھی تبدیل ہوتی گئی۔ عورتوں پر بہت ساری پابندیاں لگتی گئیں۔ عورت گھر کی چہار دیواری میں قید کر دی گئی۔ اسے تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔ جب جبر و استحصال کا سلسلہ بڑھتا گیا تو عورتوں کی کمزور ہوتی حیثیت کو حساس اور بیدار طبقہ نے بھی محسوس کیا اور حقوق نسواں کے لئے مردوں نے آواز بلند کرنی شروع کردی ۔راجہ رام موہن رائے، کیشپ چندر سین، ایشور چندر ودّیا ساگر جیسے مصلحین سامنے آئے جنہوں نے عورتوں کی فلاح اور صلاح کے لئے کوششیں کیں۔
انہی کی کوششوں سے عورتوں کی حیثیت میں نمایاں تبدیلی آئی۔ پہلے جو ستی کی ایک ظالمانہ رسم تھی جس میں مرد کے ساتھ ساتھ عورت بھی جلادی جاتی تھی۔ اسے گورنر جنرل آف انڈیا Lord William Bentinck نے مذہبی شدت پسندوں کی مخالفت کے باوجود ایک قانون کے ذریعہ ختم کیا۔ اس کے علاوہ عقد بیوگان کے لئے بھی تحریک چلی۔ تعلیم نسواں پر بھی زور دیا گیا۔ عورتوں کے سماجی، سیاسی حقوق کے لئے بھی لڑائی لڑی گئی۔ عورتوں کے لئے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔ اس طرح پھر عورتوں کی حیثیت میں تھوڑی سی تبدیلی آئی اور ا نہیں کچھ سماجی اور سیاسی حقوق بھی ملنے لگے۔
اس کے بعد تانیثیت کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں سے بھی عورتوں میں بیداری آئی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ تحریکیں غلط سمت اختیار کرتی گئیں اور مرد کو ایک متخالف قوت کے طور پر سمجھنے لگیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاشرے کے مرد حضرات ہی تھے جنہوں نے عورتوں کے حقوق کی لڑائی لڑی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ 1848ء میں لڑکیوں کا پہلا اسکول کھولنے والا بھی مرد ہی تھا۔ جس کا نام تھا جیوتی راؤ پھولے۔ جس میں ان کی شریک حیات ساوتری بائی نے ساتھ دیا۔
مرد عورت کے درمیان عدم مساوات کو ختم کرنے میں مردوں کا کردار بہت اہم رہا ہے کہ جن تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو داخلے کی اجازت تک نہیں تھی ان اداروں میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے لگیں۔ اس طرح عورت رفتہ رفتہ اپنے حقوق حاصل کرتی گئی۔ مگر اس معاملے میں شدت پسند خواتین کا رول بہت ہی منفی رہا کہ انہوں نے فیمنزم کی آڑ میں عورتوں کو ان کی منزل سے بھٹکا دیا۔جس کے نتیجے میں عورتیں استحصال کا شکار ہوتی گئیں۔ جنسی آزادی اور معاشی آزادی کی آڑ میں وہ اپنی مریادا بھولنے لگیں۔ انتہا پسند فیمنزم کی وجہ سے عورتوں کا وہ طبقہ وجود میں آیا جس نے جنسی آزادی کے لئے آواز اٹھائی اور اپنی آرزؤں اور خواہشات کی تکمیل کے لئے غلط راستوں کا ا نتخاب کیا۔
قرب بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے
اک عمر کٹ گئی کسی ناآشنا کے ساتھ
انہیں عورتوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا بھی ادراک ہے۔ وہ عورتوں کے بنیادی مسائل پر بہت ہی گہرائی کے ساتھ سوچتی ہیں اور لکھتی ہیں۔ ان کی ایک کتاب ’’خواتین کی احتجاجی شاعری‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں انہوں نے عورتوں کے مقام، آزادیٔ نسواں کی تحریک، خواتین کے احتجاجی شعور کے علاوہ سماجی اور سیاسی احتجاج کے حوالے سے بڑی اہم گفتگو کی ہے۔
خاص طور پر کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، ترنم ریاض، پروین شاکر، سعیدہ گزدر، عشرت آفریں، زہرہ نگاہ، حمیدہ معین رضوی کو محور و مرکز بنا کر نسائی احتجاج کی مختلف صورتوں سے آگاہ کرایا ہے۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کے عہد کی عورت اب خاموش رہنے والی نہیں ہیں۔ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہی ہے۔ وہ اس قفس سے آزاد ہونا چاہ رہی ہے جس میں مردوں نے انہیں قید کیا ہوا ہے۔ ان کا یہ کہنا صحیح ہے کہ:
’’اب آن ملو سجنا، سیاں جی سے چھپکے چھپکے ہوئی کیا بات کا زمانہ گزر گیا ہے۔



